اردو صحافت و ادبِ اطفال کا گُلِ سر سَبد فاروق سید گُل بوٹے داغِ مفارقت دے گئے "ادبی تقاریب، تعلیمی مجلسوں اور بال بھارتی کو رونق بخشنے والا چراغ گُل گیا "
Author -
personحاجی شاھد انجم
مئی 26, 2026
0
share
مالیگاؤں : گذشتہ دنوں بعد نمازِ مغرب یہ خبر تعلیم و تعلم، صحافت و ادارت، زبان و ادب بالخصوص ادبِ اطفال کے دِل دادہ و پروردہ افراد کو رنجور کرگئی کہ 19 مئی 2026 بروز منگل کا آفتاب فرزندِ اردو، عاشقِ ادبِ اطفال ماہنامہ گُل بوٹے ممبئی کے مدیر اور ادارہ بال بھارتی پونہ شعبہءِ اردو کی مجلسِ مشاورت کے اہم رکن فاروق سید کی 60 سالہ زندگی کے ساتھ غروب ہوگیا _
انا للہ وانا الیہ را جعون فاروق سید رمضان المبارک میں اپنے دوستوں کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حرمین شریفین میں تھے _ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران برین ہیمریج کا شکار ہوئے _ طبیعت میں معمولی بہتری نظر آنے پر دوستوں کے ہمراہ ممبئی واپس آئے _ تب سے تادمِ آخر علاج و معالجے کے لیے ہسپتال میں داخل رہے _ دل کا عارضہ ہونے پر ڈاکٹروں نے بائے پاس آپریشن کو ترجیح دی مگر طبی پیچیدگیوں کی وجہ داغِ مفارقت دے گئے _ فاروق سید علمی و ادبی مجلسوں کے سرخیل رہے، زبان کے دھنی تھے، فروغِ اردو کے لیے اپنا تَن مَن دَھن، دن کا چین اور راتوں کی نیند تک تَج کر فروغِ ادب اطفال کے لیے کام کیا بقولِ خان نوید الحق انعام الحق ( اسپیشل آفیسر برائے اردو فارسی عربی بال بھارتی پونہ و رفیقِ خاص) فاروق سید نے ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کے لیے اپنا اور اپنے بچوں کے نوالے سے اردو کے بچوں کو اردو کی غذا یعنی گل بوٹے دیا ہے _ ابتدائی دنوں میں رسالے کی ترتیب و تہذیب ،کتابت و ڈی ٹی پی سے اشاعت تک کے تمام مراحل فاروق سید تنہا مکمل کرتے اس کے بعد رسالے کی پیکنگ، ایڈریس ٹیگنگ اور ڈاک خانے تک پہنچانے میں بیوی بچوں کے ساتھ اکثر دوست احباب بھی بلا تکلف معاون ہوجاتے _ ننھے کمسن بچوں سے لے کر بزرگوں ( آٹھ /8 سے اَسّی /80 سال تک کی عمر ) کے لیے 1996 میں ماہنامہ گُل بوٹے ممبئی کا اجراء کیا _ اداریہ" چھوٹی سی بات " سے قارئین کی وہ ذہن سازی کی دیکھتے ہی دیکھتے رسالے کی اشاعت کئی ہزار تک پہنچ گئی اور ریاستِ مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ ملک کے طول و عرض سے نکل کر خلیجی ممالک کے اردو حلقوں تک گُل بوٹے ممبئی طلبہ کی اسکول بیگ اور بڑوں کے مطالعے کی میز تک پہنچ گیا _ اس رسالے کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ اس کے قلم کاروں کی فہرست میں اہم قلم کاروں، ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ نئے قلم کاروں کو بھی اُسی احترام کے ساتھ شائع کیا جاتا تھا _ بچوں کی عمر، ذہنی سطح اور دلچسپی کے پیشِ نظر رسالے کی ترتیب و تدوین کی جاتی _ بچوں کی تخلیقات اور انتخاب کو بھی شامل اشاعت کیا جاتا رہا _ دلچسپ معلومات کے ساتھ مقابلے، مکالمے، بلا عنوان کہانیاں، دلچسپ سیریز، اشعار، معمے، بچوں کے خطوط اس کی انفرادیت رہی_ گُل بوٹے کا سب سے بڑا کارنامہ اردو رسالے کو مقابلہ جاتی امتحانات کے طرز سے انسلاک رہا _ برسوں گل بوٹے اسکالرشپ امتحان اس کی سالانہ سرگرمیوں کا حصہ رہا جس میں بلا مبالغہ ہزاروں بچے شریک ہوتے تھے _ ممبئی میونسپل کارپوریشن اردو اسکول کی سبکدوش معلمہ خان عارفہ نوید الحق کا کہنا ہے کہ فاروق سید نے ادبی رسالے کو تعلیم سے مربوط کرکے ایک منفرد کارنامہ انجام دیا ہے_ کتابوں اور لغات کو انعام. میں دے کر آپ نے نسلِ نو کی ذہن سازی کا فریضہ انجام دیا ہے _ ستمبر 2019 میں دہلی میں تین روزہ جشنِ سیمیں ( سلور جوبلی) کا تین اہم یونیورسٹیوں جامعہ ملیہ دہلی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، دہلی یونیورسٹی میں انعقاد اور اِس موقع پر غالب انسٹیٹیوٹ اردو زبان و ادب کے نمائندہ افراد کے درمیان پچیس ادبِ اطفال کی کتابوں کا اجراء ایک زبردست کارنامہ رہا_ گل بوٹے جشنِ سیمیں کا حصہ رہے الحاج قریشی مختار احمد محمد عیسی (ہیڈ ماسٹر ارم و رحمانی اسکول) نے کہا کہ فاروق سید اردو کے مجاہد تھے _ مالی نفع نقصان کی پرواہ کے بغیر آپ نے صرف فروغِ اردو کے لیے بین الاقوامی سطح کا تین روزہ پروگرام دہلی میں منعقد کرکے فرزندِ اردو کہلانے کا حق ادا کر دیا _ بچوں کا اولین ہفت روزہ اخبار خیر اندیش کے مدیر خیال انصاری صاحب نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاروق سید ادب اطفال کی آبرو تھے _ انہوں نے فروغِ ادبِ اطفال کے لیے بے شمار کام کیے ہیں اور کام کرنے والوں کا خلوصِ دل سے تعاون کیا ہے _ فاروق سید اور خیال انصاری کا تعلق کم و بیش ساڑھے تین دہائیوں پر مشتمل ہے اُن کے انتقال پر میں خود بہت رنجور ہوں حق مغفرت فرمائے_ فاروق سید کی زندگی جہدِ مسلسل کا دوسرا نام ہے _ سولاپور میں پیدا ہوئے، عنفوانِ شباب میں خوابوں کی نگری عروس البلاد ممبئی میں وارد ہوئے _ چھوٹے موٹے روزگار کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے رہے _ مہاراشٹر کالج ممبئی سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کیا _ زبان و ادب سے دلچسپی رہی، صحافت ( جرنلزم) کا کورس کیا _ صحافت سے وابستگی اختیار کی، ممبئی سے نکلنے والے کئ اخبارات میں ملازمت کی _ سولاپور سے ہفت روزہ اردو میلہ اخبار جاری کیا اور 1996 میں گل بوٹے ممبئی جاری کیا جو اُن کی شناخت بن گیا _ ادبی مجلسوں کے برپا کرنے، تعلیمی اجلاس کو منعقد کرنے، شعراء و ادباء کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے مجلسوں کو سجانے کا خوب شوق رہا _ اچھے شاعر، ادیب، مصنف تھے _ ادارہ بال بھارتی پونہ کی مجلسِ مشاورت کا حصہ رہے _ اِن کی تخلیقات نصابی کتب کا حصہ بھی بنیں _ اکثر مشمولات کے انتخاب کے بعد زبان و بیان کے حوالے سے بڑے لطیف اشارے دے کر نصابی ضرورت کی تکمیل کا حصہ بناتے _ ادارہ بال بھارتی پونہ کی اردو مجلسِ ادارت و مشاورت کے سابق صدر ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط صاحب اور ماہرِ لسانیات سلیم شہزاد صاحب نے گہرے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاروق سید اردو کے لیے جیتے رہے _ ادبِ اطفال کے فروغ کے ساتھ بال بھارتی میں اِن کا ادبی تعاون لائقِ ستائش رہا ہے _ اسسٹنٹ اسپیشل آفیسر برائے اردو فارسی عربی بال بھارتی پونہ شیخ ناصر علی نے کہا کہ میں نے بھائی جیسا دوست کھودیا _ میں درس و تدریس اور انتظامی امور کا بندہ ہوں فاروق سید نے مجھے ادب کا طالب علم بنا دیا _ فاروق سید کی بڑی خوبی دل داری، قدردانی اور مہمان نوازی رہی _ فاوق سید گل بوٹے کا مالیگاؤں سے ادبی تعلق رہا _ خیر اندیش کی ہر تقریب کا حصہ رہے _ ادبی مجلسوں کی زینت بنے _ یہاں کے ادب نواز لوگوں سے گہرے مراسم رہے _ اردو کتاب میلے میں اپنے پبلیکیشن کے ساتھ شریک رہے _ اس موقع کا واقعہ قلبِ شہر میں واقع مثالی تربیت گاہ میونسپل کارپوریشن اردو پرائمری اسکول نمبر 44 کے استاد اور موجودہ اردو لسانی کمیٹی کے صدر یاسین اعظمی نے ان کی دریا دلی بیان کرتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2021 میں منعقدہ اردو کتاب میلے میں اسکول کےطلبہ کی کتابوں سے دلچسپی کو دیکھتے ہوئے تقریباً سو سے زائد طلبہ کو گل بوٹے کی مفت کاپیاں دے دیں _ فاروق سید اردو کا مسافر تھا اس نے فروغ اردو کے لیے خلیجی ممالک کا دورہ کیا _ پڑوسی ملک پاکستان بھی ادبی ٹور پر گئے اور ہم بھی کراچی ہو آئے سفر نامہ لکھا _ آج اردو زبان کا یہ فرزند جوار رحمت میں پہنچ گیا ہے، ادبی کنبہ سوگوار ہے، اہلِ خانہ میں بیوہ، فرزند اور بیٹی پر غموں کا پہاڑ ٹوٹا ہے ہم سب اس موقع پر تعزیتِ مسنونہ پیش کرتے ہیں، صبر کی تلقین کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ رب کریم فاروق سید کے حسنات کو قبول، مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، آمین ثم آمین شریکانِ غم : سابق و موجودہ صدر و اراکینِ مجلسِ ادارت و مشاورت بال بھارتی پونہ ، خان نوید الحق انعام الحق ( اسپیشل آفیسر برائے اردو فارسی عربی بال بھارتی پونہ) ، شیخ ناصر علی ( اسسٹنٹ آفیسر بال بھارتی پونہ) ، خیال انصاری ( خیر اندیش)، الحاج قریشی مختار احمد محمد عیسی ( ہیڈ ماسٹر ارم و رحمانی اسکول) ، اعظمی محمد یاسین محمد عمر ، شکیل انصاری سر، خلیل عباس ( شامنامہ)