کھام گاؤں – جالنہ ریلوے لائن منصوبے کو بڑی پیش رفت، زمین حصول کے لیے مرکزی نوٹیفکیشن جاری
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 02, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) کھام گاؤں – جالنہ ریلوے لائن منصوبے کی تکمیل کی جانب ایک اہم اور فیصلہ کن پیش رفت سامنے آئی ہے۔
مرکزی حکومت نے اس ریلوے منصوبے کے لیے زمین کے حصول کی کارروائی کو منظوری دیتے ہوئے 26 مئی کو سرکاری راجپتر (گزٹ) میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد کئی دہائیوں سے زیرِ التوا اس اہم منصوبے کی تکمیل کی امیدیں مزید روشن ہوگئی ہیں۔
مرکزی حکومت نے ریلوے (ترمیمی) ایکٹ 2008 کی دفعہ 20-اے کے تحت کھام گاؤں – جالنہ نئی ریلوے لائن کو ’’خصوصی ریلوے پروجیکٹ‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ منصوبہ وسطی ریلوے کے تحت مکمل کیا جائے گا اور اسے قومی بنیادی سہولیات کے اعتبار سے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 162 کلومیٹر طویل براڈ گیج ریلوے لائن کے لیے جالنہ اور بلڈانہ اضلاع میں زمین کے حصول کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس منصوبے سے ودربھ اور مراٹھواڑہ کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوگا، جبکہ صنعت، تجارت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔ ساتھ ہی کسانوں اور عام شہریوں کو آمد و رفت کی بہتر سہولت حاصل ہوگی اور سفر کے وقت و اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس ریلوے منصوبے کے حق میں گزشتہ کئی برسوں سے بلڈانہ اور جالنہ اضلاع کے سماجی کارکنان، شہریوں اور ریلوے عوامی تحریک کمیٹی کی جانب سے مسلسل احتجاج، یادداشتیں اور حکام سے نمائندگی کی جا رہی تھی۔ ریاستی حکومت نے بھی تقریباً دو سال قبل اس منصوبے کے لیے 50 کروڑ روپے کی منظوری کے سلسلے میں مرکزی حکومت کو مکتوب روانہ کیا تھا۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کی ترقی کے لیے سنگِ میل قرار دیا ہے۔
عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ کھام گاؤں – جالنہ ریلوے لائن مکمل ہونے کے بعد نہ صرف علاقائی رابطے بہتر ہوں گے بلکہ بلڈانہ ضلع کی معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار ملے گی۔