دھان پان سا جسم، قد پانچ فٹ سے ذرا نکلتا ہوا، جسامت کسی اسمارٹ ہیرو جیسی، پورا سر بالوں سے بھرپور اور بال اتنے کہ ہیئر ٹرانسپلانٹ کروائیں تو کروڑوں روپیے لگ جائیں ۔ چال میانہ لیکن محتاط، اتنی محتاط جیسے ڈر ہو کہ کہیں اگلا قدم کسی گڑھے میں نہ جا پڑے، آواز دھیمی اور لہجہ نرم، ناک ستواں ، ہونٹوں پر ہلکی ہلکی مونچھیں، داڑھی اتنی جتنی خود سے بڑھ جائے ورنہ صاف، گفتار کی طوالت اتنی جتنی مدمقابل کی اوقات، پینٹ قمیض زیب تن کرتے ہیں لیکن پاجامہ کرتے سے بھی پرہیز نہیں ۔ لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ محتاط اور حتی الامکان گریزاں ، کر بھلا تو ہو بھلا ورنہ اپنا گھر بھلا پر مکمل ایمان ۔
یہ ہیں آکولہ شہر کی شان
مصوری جن کی پہچان
ایک ادھ کھُلا راز
یعنی شکیل اعجاز
اردو ادب کے وسیع و عریض نقشے پر بعض نام ایسے ہوتے ہیں جو کسی شور و غوغا کے بغیر اپنی روشنی بکھیرتے ہیں۔ مہاراشٹر کے شہر آکولہ سے تعلق رکھنے والے شکیل اعجاز ایک ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت ہیں ۔ وہ ایک ایسے درویش مصور، انشائیہ نگار اور مزاح نگار ہیں جس نے کاغذ کے بدن میں لفظوں کی شیرینی اور رنگوں کی روشنی بھرنے کی ہامی بھر رکھی ہے ۔
ایک زمانے میں ان کے والد مشہور شاعر غنی اعجاز بھی اس شہر کی شناخت رہ چکے ہیں ۔ غنی اعجاز کا یہ شعر سن لیجیے جو دنیا بھر میں مشہور ہے:
لوگ خوش ہیں اسے دے دے کے عبادت کا فریب
وہ مگر خوب سمجھتا ہے ، خدا ہے وہ بھی
مرحوم غنی اعجاز کے فرزند دلبند شکیل اعجاز بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے
ملازمت کی سخت کوشی سے نجات حاصل کرلینے کے بعد اب اپنی زندگی کی سیکنڈ اننگ کھیل رہے ہیں اور خوب کھیل رہے ہیں ۔ وہ ایک قلمکار، ایک مصور، ایک شفیق استاد اور ان سب سے بڑھ کر ایک بے حد نفیس انسان ہیں۔ ان کی شخصیت کے کم از کم اتنے رنگ تو ضرور ہیں کہ انہیں کسی ایک خانے میں قید کرنا ممکن نہیں، ایک سے زیادہ خانے درکار ہوں گے ۔
شکیل اعجاز صاحب کی پہلی اور سب سے بڑی پہچان ان کی مرنجاں مرنج طبیعت ہے۔ یعنی جیو اور جینے دو اور اپنے کام سے کام رکھو ۔
نہ کاہو سے دوستی نہ کاہو سے بیر
ویسے دیکھا جائے تو آج کے دور میں جہاں انا پرستی عام ہے، شکیل اعجاز عجز و انکسار کی چلتی پھرتی تصویر ہیں۔ علاوہ ازین وہ جتنے محتاط ہیں اتنے ہی نازک مزاج بھی ہیں ۔ وہ نازک مزاج ان معنوں میں ہیں کہ دوسروں کی دی ہوئی ذرا سی تکلیف اور دوسروں کی ذرا سی تکلیف انہیں تڑپا دیتی ہے۔ شکیل اعجاز کے بارے میں مشہور ہے کہ اگر وہ آپ کو کہیں نظر آجائیں تو سمجھ جائیے کہ انھیں کوئی انتہائی ضروری کام ہوگا ورنہ وہ باہر بہت کم نکلتے ہیں ۔ جب برسرملازمت تھے تو وہ عموماً دو ہی جگہ پائے جاتے تھے، اسکول اور گھر ۔ اور آج کل بس ایک ہی جگہ پائے جاتے ہیں یعنی گھر ۔ اپنے مخصوص احباب کے علاوہ کسی سے ملنے ملانے کا انھیں کوئی شوق نہیں اور کوئی ان سے ملنے جائے تو انھیں کوئی اعتراض بھی نہیں ۔ شکیل اعجاز اور حسنین عاقب میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ قدر یہ ہے کہ دنیاداری شکیل اعجاز کو اتنی ہی آتی ہے جتنی حسنین عاقب کو ۔
شکیل اعجاز چونکہ خود بھی آرٹسٹ ہیں اس لئے روشِ زمانہ سے قدرے ہٹ کر، کسی دوسرے شخص کے ہنر کو سراہنے میں بخل سے کام نہیں لیتے ۔ میری تحریریں پڑھتے ہیں تو موقع بموقع حوصلہ افزائی کے میسیجز بھیجتے ہیں تاکہ مجھے خبر ہوجائے کہ وہ بے خبر نہیں ۔ بے خبر سے فیض کا ایک بہت عمدہ شعر یاد آگیا، اس شعر کے ذکر کا محل تو نہیں ہے لیکن شعر پسند آئے گا ۔
نگاہِ شوق ، سر بزم بے حجاب نہ ہو
وہ بے خبر سہی، اتنے بے خبر بھی نہیں
خیر، بات شکیل اعجاز کی ہورہی ہے ۔
شکیل اعجاز کے دل میں ایک دردمند دل ہے ، ایسا ہی جیسا ایک قلمکار کا ہوتا ہے اور پھر شکیل صاحب تو دوگنی صلاحیت والے قلمکار ہیں یعنی قلم سے لکھتے رہے اور پھر بیس برس قبل برش سے تصویر بنانا ترک کرکے لفظوں سے یہ کام لینے لگے ۔ یہ ان کی دردمندی ہی ہے جو ان کے لفظوں میں تاثیر پیدا کرتی ہے اور فکر و خیال میں چمک اور معنویت پیدا کرتی ہے ۔
یہی دردمندی، یہی سوز اور یہی گداز ان کے فن کو عوام میں مقبول بناتا ہے۔
جب وہ نثر لکھتے ہیں تو تو حرف و معنی کے رنگ کاغذ پر پھیلتے نہیں بلکہ بولنے لگتے ہیں ۔ ان کے ہاتھ میں جب قلم آتا ہے، تو قرطاس پر ایک نئی دنیا آباد ہو جاتی ہے۔ ان کی قلمکاری محض دائروں اور شوشوں کا امتزاج نہیں بلکہ جذبات کی عکاسی ہے۔
اسی حوالے سے ایک واقعہ یاد آگیا ۔ شکیل اعجاز نے اپنی فنکاری کے ابتدائی زمانے میں شہنشاہ جذبات اداکار دلیپ کمار کی ایک نہایت خوبصورت تصویر بنائی ۔ جب شکیل صاحب نے ان کا پورٹریٹ بنا کر انہیں پیش کیا، تو شہنشاہِ جذبات دلیپ کمار دنگ رہ گئے۔ انہوں نے نہ صرف اس فن کی تعریف کی بلکہ شکیل صاحب کو ڈھیروں دعاؤں سے نوازا۔
شکیل اعجاز کے فن مصوری کے گواہ اردو کی سینکڑوں کتابوں کے ٹائٹلز (سرورق) ہیں جو صاحبانِ کتاب نے خصوصی فرمائش کرکے شکیل بھائی سے بنوائے اور اپنی کتاب کی تزیین کی ۔ یہ تمام سرورق شکیل صاحب کے کمالِ فن کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کبھی اس فن کو دولت کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اسے اردو ادب کی خدمت کے طور پر اپنایا۔
ہمیں حیرت ہوگی اگر خاتون خانہ نے انھیں اپنے فن کی اس 'بے فیضی' پر کچھ نہیں کہا ہوگا ۔ شکیل اعجاز کی مزاح نگاری کی خاص بات یہ ہے کہ وہ 'طنز' کے نشتر چلانے کے بجائے 'مزاح' کے پھول بکھیرتے ہیں۔ یہ ان کے مزاج کا خاصہ بھی ہے ۔
ان کے انشائیے روزمرہ زندگی کے عام واقعات سے کشید کیے جاتے ہیں۔ وہ زندگی کی ناہمواریوں پر اس طرح ہنستے ہیں کہ پڑھنے والا خود ہنسنے لگتا ہے بلکہ پڑھ کر محظوظ بھی ہوتا ہے اور سوچنے پر مجبور بھی۔ ان کی نثر میں وہی شگفتگی ہے جو ان کی گفتگو میں پائی جاتی ہے۔
دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ انہوں نے درس و تدریس کے شعبے میں گزارا۔ ایک معلم کے طور پر انہوں نے صرف نصاب نہیں پڑھایا بلکہ اپنے شاگردوں کے کردار کی تعمیر ایسے کی کہ بیشتر شاگرد آج بھی ان کا نام لیتے ہیں اور فخر کرتے ہیں کہ انھیں شکیل اعجاز جیسا استاد میسر آیا ۔ آکولہ اور بارسی ٹاکلی کے درمیان بیس کلومیٹر کی مسافت ہے ۔ یہ مسافت شکیل بھائی کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی ۔ مسافت سے زیادہ یہ روزانہ آنے جانے کا تکلف ان کے رونگٹے کھڑے کردیتا تھا ۔ آخرکار انھوں نے فیصلہ کیا کہ رونگٹوں کو اس روزانہ کی مشقت سے نجات دلادی جائے ۔ یعنی خس کم جہاں پاک ۔ نہ رہے ملازمت نہ کھڑے ہوں رونگٹے ۔ جیسے ہی سرکاری کاغذات کے مطابق ان کی تاریخ ولادت نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ، وہ ملازمت سے برضا و رغبت سبکدوش ہوگئے ۔ سبکدوشی کے بعد انہوں نے آرام پسندی کے بجائے ایک مشکل ترین کام کا بیڑا اٹھایا۔
انہوں نے دیکھا کہ آکولہ اور گرد و نواح کے بہت سے بزرگ قلمکار ایسے ہیں جن کا کام بکھرا ہوا ہے یا مالی تنگدستی کی وجہ سے شائع نہیں ہو سکا تھا۔ شکیل صاحب نے ان بزرگوں کی کتابوں کو مرتب کیا، ان کی اشاعت کا انتظام کیا اور اب تک بیسیوں کتابیں منظرِ عام پر لا کر ان قلمکاروں کا حق ادا کر دیا جنہیں وقت شاید بھلا چکا تھا۔
شکیل اعجاز نے اپنے فن (مصوری و تصنیف و تحریر) سے دنیاوی مال تو جمع نہیں کیا، لیکن جو شہرت، ناموری اور لوگوں کی محبت ان کے حصے میں آئی، وہ کسی بڑے خزانے سے کم نہیں۔ وہ آج بھی اپنے شہر میں اردو ادب کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں اور نو آموز لکھاریوں کے لیے ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتے ہیں۔