اکولہ کے اساتذہ کی ادبی و تعلیمی خدمات کا اعتراف، نصاب میں تخلیقات کی شمولیت پر خوشی کی لہر
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 14, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) ریاست مہاراشٹر کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی اکولہ کے ادبی و تعلیمی حلقوں میں خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ گئی ہے۔
خود مختار اداروں، مہا نگر پالیکا اور ضلع پریشد کے اساتذہ نے اپنی علمی، ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کا ایک بار پھر بھرپور لوہا منواتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ وہ کسی بھی اعتبار سے کم نہیں ہیں۔
ریاستی نصاب میں اکولہ کے دو باصلاحیت اساتذہ کی تخلیقات کو شامل کیے جانے پر نہ صرف اساتذہ بلکہ اردو زبان و ادب سے وابستہ حلقوں میں بھی خوشی کا ماحول پایا جارہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اپنی شاعری کے ذریعے شناخت رکھنے والے اکولہ مہا نگر پالیکا اردو اسکول نمبر 8 کے فعال معلم اور نوجوان شاعر نعیم فراز کی خوبصورت نظم "کتابیں" کو جماعت دوم کی اردو زباندانی میں شامل کیا گیا ہے،
جب کہ معروف شاعرہ اور ضلع پریشد اردو اسکول بابل گاؤں کی فعال معلمہ حاجرہ نور زریاب کی دلکش نظم "میرا گھر ہے میری جنت" جماعت ششم کے اردو زباندانی برج کورس کا حصہ بنائی گئی ہے۔
ان دونوں تخلیقات کی نصاب میں شمولیت کو اکولہ اور دبستانِ برار کے لیے ایک اہم ادبی و تعلیمی اعزاز قرار دیا جارہا ہے۔
ماہرینِ تعلیم اور اردو ادب سے وابستہ شخصیات کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سرکاری اداروں کے اساتذہ نہ صرف تدریسی میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں بلکہ اردو زبان کی بقا، فروغ اور نئی نسل تک اس کی خوبصورتی پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ تعلیمی حلقوں کا ماننا ہے کہ نصاب میں مقامی اساتذہ کی تخلیقات شامل ہونے سے طلبہ کو معیاری اور بامقصد ادب سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا، ساتھ ہی دیگر اساتذہ اور نوجوان قلمکاروں کو بھی تخلیقی میدان میں آگے بڑھنے کی تحریک حاصل ہوگی۔ اکولہ کے اساتذہ کی یہ کامیابی پورے خطۂ برار کے لیے باعثِ فخر سمجھی جارہی ہے اور اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے افراد نے نعیم فراز اور حاجرہ نور زریاب کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔