تاریخ کے جھروکے سے: آکولہ شہر اور تحریک آزادی کا فراموش شدہ مجاہدِ آزادی محمد یعقوب (رح) خان حسنین عاقبؔ پوسد ، مہاراشٹر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 08, 2026
0
share
بھارت کی معاشی راجدھانی مانی جانے والی ریاست مہاراشٹر کے مردم خیز شہر آکولہ (ضلع) کی تاریخی تحصیل بالاپور میں، آکولہ شہر سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤں نما گاؤں پارس ہے جو ناگپور ممبئی ہائی وے سے آٹھ نو کلومیٹر اندر ہے۔
اس گاؤں کو ایک خاص وجہ سے عالمی شہرت بھی حاصل ہے۔ شہرت کی وجہ یہ ہے کہ یہاں تھرمل پاور اسٹیشن ہے جہاں سے پوری ریاست میں بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ اسی گاؤں پارس میں شاید انیسویں صدی کے اواخر یا بیسویں صدی کے اوائل میں ایک واقعہ پیش آیا جہاں جائیداد کے کسی تنازعے میں ایک بھائی نے دوسرے بھائی کا قتل کردیا۔ اس خاندان کے ایک بزرگ اس سانحے سے اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ انھوں نے اپنے کنبے کے ساتھ پارس کو خیرباد کہہ کر آکولہ شہر بسالیا۔
ان ھی بزرگ کی اولادوں میں میرے دادا کے دادا مہر خان تھے ۔ مہرخان کے پوتے محمد میرباز خان یعنی میرے دادا حضرت کی شادی زبیدہ بی سے ہوئی جو محمد یعقوب کی بیٹی تھیں ۔
محمد یعقوب کے بڑے بھائی محمد حنیف تھے ۔ دونوں بھائیوں میں آپسی شفقت و احترام بدرجہ اتم تھا ۔ ان کا تعلق آکولہ شہر سے بیس کلومیٹر دور گاؤں بارسی ٹاکلی سے تھا ۔
بارسی ٹاکلی اب خود چھوٹا شہر بن چکا ہے اور آکولہ شہر میں ضم ہونے کو بیقرار ہے ۔ اس شہر کی ادبی شہرت محبوب راہی کی وجہ سے بھی ہے جو یہیں مقیم ہیں ۔ محمد حنیف عمرمیں بڑے تھے جب کہ محمد یعقوب چھوٹے۔ محمد یعقوب آکولہ شہر کی بلدیہ میں آکٹرائے ناکے پر ملازم ہوگئے۔
انگریزی حکومت کا زمانہ تھا۔ بڑے بھائی محمد حنیف عالم بھی تھے اور عامل بھی، ساتھ ہی حکمت بھی کرتے تھے۔وہ آکولہ شہر کے نواب پورہ کی دیوان شاہ داتا مسجد میں امامت پر مامور ہوگئے۔ انھوں نے عمر بھروہیں امامت کی۔ سردار بی ان کی اکلوتی بیٹی تھیں جو پارس میں حاجی بشیر الدین سے بیاہی گئی تھیں ۔ محمد حنیف کا انتقال 1967 میں پارس میں اپنی بیٹی کے گھر ہی ہوا۔ (سردار بی کے پوتوں میں بیشتر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ملک بھر کے موقر تعلیمی اور سائنسی اداروں میں برسرملازمت ہیں۔) یہ دونوں بھائی خاندانی، نجیب الطرفین، نیک اور خدا ترس لوگ تھے۔ دونوں بھائیوں کو ایک ایک بیٹی تھی۔ اولادِ نرینہ دونوں کی قسمت میں نہیں تھی۔ اوپر لکھا جاچکا ہے کہ چھوٹے بھائی محمد یعقوب کی بیٹی زبیدہ خاتون آکولہ شہر کے رہائشی منور خان ولد مہر خان کے بیٹے میر باز خان(ولادت 1918وفات 1996) سے بیاہی گئی تھیں ۔ میرباز خان نہایت خوبصورت، وجیہہ اور نیک نوجوان تھے البتہ انھیں جہاں گردی کا بہت شوق تھا۔ یہ شوق انھوں نے بعد میں تصوف اور معرفت کے گلیاروں سے گزرتے ہوئے پورا کیا۔ ہم بات کررہے ہیں محمد یعقوب مرحوم کی۔ محمد یعقوب نے جلد ہی آکٹرائے ناکے کی ملازمت سے پیچھا چھڑایا اور ملک کی تحریک آزادی میں سرگرم عمل ہوگئے ۔ انھیں انگریزی حکومت کی غلامی پسند نہیں تھی تو بھلا وہ ان کی ملازمت کب تک کرتے۔ انگریزوں کی ملازمت سے آزاد ہوتے ہی انھوں نے تحریک آزادی میں بھرپور حصہ لینا شروع کردیا۔ اس زمانے میں علامہ عنایت اللہ مشرقی کی قائم کردہ تحریک خاکسار کا آکولہ شہر اور ضلع میں بہت زور تھا۔ محمد یعقوب نے خاکسار تحریک کا پرچم تھام لیا۔ خاکسار تحریک تقسیم ہند سے پہلے کی ایک نیم فوجی جماعت تھی۔ یہ تنظیم بیلچہ پارٹی کے نام سے بھی مشہور تھی کیونکہ اس کے پیروکار کندھے پر بیلچہ رکھ کر پریڈ کرتے تھے۔ ان کا باقاعدہ خاکی یونیفارم تھا۔ ہر خاکسار کے لیے لازم تھا کہ وہ خاکی یونیفارم پہنے۔تحریک کے اراکین کے لئے لازمی تھا کہ وہ نماز اور روزہ کی پابندی کریں۔ اس سلسلے میں کوئی عذر قبول نہیں کیا جاتا تھا۔ قصور کرنے والے کو جسمانی سزا بھی دی جاتی تھی۔ خاکسار تحریک نے جدید اردو نظم کے لئے بھی ایک حوالہ فراہم کیا ہے۔ وہ یوں کہ مشہور جدید نظم گو شاعر ن م راشد بھی کچھ وقت کے لئے خاکسار تحریک کا حصہ بنے۔ ن م راشد نے 1937 میں خاکسار تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ وہ تقریباً دیڑھ سال تک اس تحریک کا حصہ بنے رہے۔ خاکسار تحریک کی نظریاتی ہم آہنگی مولانا ابوالکلام آزاد کے آزادیئ ہند کے نظریات سے تھی۔ تحریک خاکسار مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح تقسیم ہند کی مخالف تھی۔ انگریزی وکی پیڈیا پر اس تحریک کے تعلق سے جو پہلا پیراگراف ملتا ہے، اس کی عبارت ملاحظہ کریں: ''The Khaksar movement was a social movement based in Lahore, Punjab, British India, established by Inayatullah Khan Mashriqi in 1931, with the aim of freeing India from the rule of the British Empire. The Khaksars opposed the partition of India and favoured a united country.The membership of the Khaksar movement was open to everyone and had no membership fee regardless of the person's religion, race and caste or social status. The emphasis was on the brotherhood of mankind and being inclusive for all people.'' محمد یعقوب خاکسار تحریک کے سالار ضلع تھے جو ایک بڑا اور ذمہ دار عہدہ مانا جاتا تھا ۔ تحریک سے ان کی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ آکولہ شہر کے جونا بھاجی بازار میں واقع ان کی ہوٹل کا نام ہی خاکسار ہوٹل تھا ۔ خاکسار ہوٹل ہی تحریک کا مقامی دفتر بھی تھا جہاں تحریک کی میٹنگیں بھی ہوا کرتی تھیں ۔ تحریک کی مقامی پریڈ خاکسار ہوٹل سے ہی شروع ہوتی تھی اور اگربیس، چھوٹا پل ، کاٹن مارکیٹ ہوتے ہوئے سید صاحب باوا کی درگاہ پر ختم ہوتی اور پریڈ کے بعد وہیں سے سارے اراکین اپنے اپنے کاموں پر نکل جاتے ۔ ان پریڈوں کے انچارج یعنی پریڈ ماسٹر میرے پرائمری اسکول کے مدرس خواجہ خطیب الدین کے والد خواجہ منیرالدین ہوا کرتے تھے ۔ پریڈ کے دوران تمام ارکان بیلچے کو بندوق کی طرح اپنے کاندھے پر لگاکر مارچ کیا کرتے تھے۔ محمد یعقوب اپنے بیلچے کو اس قدر صاف اور چمکدار رکھا کرتے تھے کہ انھیں اس سلسلے میں انعام سے بھی نوازا گیا تھا ۔ محمد یعقوب کو سالار اس لیے بھی منتخب کیا گیا تھا کہ ان میں خطیبانہ جوش اور گرمی جذبات کے ساتھ ساتھ تقریر کا ملکہ بھی حاصل تھا ۔ خاکسار تحریک کی رکنیت کے لیے عہد نامہ لکھوایا جاتا تھا جس پر رکن کو اپنے خون سے دستخط کرنے ہوتے تھے ۔ میرے پرداد منور خان اور بعد میں میرے دادا حضرت میرباز خان بھی خاکسار تحریک کے رکن تھے ۔ بلکہ منور خان کو تو انگریزوں کی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی جانا پڑا تھا ۔ غالباً انیس سو چالیس کی دہائی میں لاہور میں خاکسار تحریک کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں محمد یعقوب نے بھی تحریک کے آکولہ ضلع کے سالار کے طور پر شرکت کی۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد وہ لاہور سے اپنے ساتھ لکڑی کا ایک صندوق لائے تھے جیسا کسی بنئے یا منشی کا ہوتا ہے۔ اس صندوق میں کئی خانے بنے تھے۔ میں نے خود اس صندوق کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ کچھ عرصے تک اس میں اپنی کتابیں بھی رکھی ہیں۔ اس کا مقصد مجھے اپنے بچپن میں سمجھ میں نہیں آتا تھا لیکن اب جب کہ اس کی تاریخی اہمیت کو سمجھ چکا ہوں تو صندوق پہلے گھر کے کباڑ میں داخل ہوا اور پھر وہاں سے کہیں غائب ہوچکا ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد تحریک خاکسار کا ایک مقصد یعنی ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کروانا تو حاصل ہوچکا تھا۔ لیکن تحریک اپنے دوسرے مقصد کو حاصل نہ کرسکی۔ یہ مقصد تھا ملک کو تقسیم نہ ہونے دینا۔ ملک سیاسی بد نیتی کی وجہ سے تقسیم ہوکر رہا۔ علامہ مشرقی اس تقسیم سے نہایت دلگرفتہ ہوگئے۔ مایوسی کے عالم میں وہ پاکستان چلے گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ محمد یعقوب مرحوم کا بھی تقریباً یہی حال تھا۔ وہ بھی خاکسار تحریک سے لاتعلق ہوگئے۔ لاتعلق کیا ہوئے بلکہ خود خاکسارتحریک ہی تحلیل ہوگئی۔ ان کے دل کی کیفیت یہ تھی کہ انگریزوں سے آزادی کی خوشی تو تھی لیکن تقسیم ملک اور اس کے بعد کے فسادات نے انھیں جذباتی طور پر نہایت شکستہ کردیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملک کی آزادی میں دور تک کوئی کردار ادا نہ کرنے والے اورکہیں کہیں آزادی سے چندسال قبل پیدا ہونے والے بھی مجاہدِ آزادی ہونے کا سرٹیفکیٹ ہاتھوں میں لئے گھوم رہے تھے۔ بہت سوں کی قسمت میں اقتدار کی حصہ داری آئی جو ان کا حق نہیں تھا۔ بہت سے ایسے بھی تھے جن کے پورے خاندان کو استفادہ ہوا اور انھیں مختلف اسکیموں کے ذریعے فائدہ پہنچایا گیا۔ لیکن محمد یعقوب رح جیسے حقیقی مجاہدینِ آزادی ان چیزوں سے بے نیاز تھے۔ انھوں نے کبھی کوشش بھی نہیں کی کہ آزاد بھارت کی حکومت میں اپنی جدوجہد اور تحریک آزادی میں فعال خدمات کا بدلہ حاصل کیا جائے۔ وہ چپ چاپ اپنی خانگی زندگی میں گم ہوگئے۔ نہ مجاہد آزادی ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا اور نہ ہی عہدہ نہ کرسی نہ مالی منفعت۔اسی حالت میں آزادی کے بعد کے دس بارہ سال گزرگئے۔ 1959 میں آکولہ شہر میں سیلاب آیا۔ اس وقت محمد یعقوب نواب پورہ سے متصل محلے میں قیام پذیر تھے۔ علالت کی وجہ سے وہ کافی کمزور ہوچکے تھے۔ سیلاب کا پانی گھروں میں گھسنے لگا تو انھیں ایک چارپائی پر دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا۔ اس کے بعد ان کی طبیعت سنبھل نہ سکی اور اسی سال وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ چونکہ محمد یعقوب کی کوئی اولادِ نرینہ نہیں تھی اس لئے انھی کوئی وارث میسر نہیں آیا حالانکہ بیٹی کی جانب سے ان کا خاندان کافی وسیع ہے۔ ان کی اکلوتی بیٹی زبیدہ خاتون راقم کی دادی تھیں اس لئے انھی سے بہت کچھ معلومات حاصل ہوئیں۔ راقم کے والد محمد شہباز خان، دو چچا محمد جہانباز خان اور محمد مہباز خان کے علاوہ تین پھوپھیاں بھی محمد یعقوب کے نواسے نواسیاں اور گود کھلائے بچے تھے اس لئے ان کے مزاج اور کارناموں کے بارے میں راست معلومات انھیں سے حاصل ہوئیں۔محمد یعقوب کو خاکسار تحریک کی جانب سے جو بیلچہ ملا تھا، میں یعنی خان حسنین عاقبؔ خود اس بیلچے سے کھیلا کرتا تھا۔ بچپن کا زمانہ تھا اس لئے اُس بیلچے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا تھا۔وہ بیلچہ بیچارہ گھر کے حمام کی دیوار پر بڑی کیلوں سے ٹنگا ہوا پڑارہتا تھا۔ لیکن کسے علم تھا کہ وہ تحریک آزادی میں ہمارے خاندان کی سرگرم شمولیت کا جیتا جاگتا گواہ ہے۔ چلتے چلتے یہ بھی بتادوں کہ میرے دادا حضرت میر باز خان عرف بابا تاج مستان مرحوم کی ایک ڈائری کے اندراج سے بھی بہت سی معلومات حاصل ہوئیں ۔ خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را۔۔۔ (مرحوم محمد یعقوب کے وارثین کے انٹرویوز، 1940 کی میرباز خان کی ڈائری کے اندراجات اور دیگر دیگر شواہد سے استفادہ کیا گیا ہے۔) --------------------------