شہر میں بچوں کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات: معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی از قلم : مولانا ریحان رئیس ندوی 8983786455
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 07, 2026
0
share
بچے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتے ہیں۔ ان کی ہنسی سے گھر آباد ہوتے ہیں اور ان کی موجودگی سے زندگی میں خوشیاں آتی ہیں۔ لیکن جب یہی معصوم بچے اغوا کاروں کے نشانے پر آنے لگیں تو والدین کی خوشیاں خوف اور پریشانی میں بدل جاتی ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ دنوں میں شہر میں بچوں کے اغوا اور لاپتہ ہونے کے واقعات نے عوام کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ چند روز قبل خیرآباد کے قریب ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ہر شخص کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ ایک معصوم بچہ مدرسہ جا رہا تھا کہ اسے رکشے میں ڈال کر لے جانے کی کوشش کی گئی۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی، لیکن اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ ہمارے بچے کس قدر خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ دنوں بھی بچوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، لیکن ان کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر اور ٹھوس تدبیر اختیار نہیں کی گئی۔ آج بھی بعض والدین اپنے بچوں کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ نہ جانے کتنی مائیں ہر رات اپنے بچوں کی یاد میں آنسو بہاتی ہیں اور کتنے باپ اپنے لختِ جگر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے قرار رہتے ہیں۔ یہ درد صرف ان خاندانوں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا درد ہے۔گزشتہ دنوں مشاورت چوک میں پیش آنے والے ایک واقعے نے بھی لوگوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق ایک معصوم بچہ عصر کے بعد میڈیکل اسٹور سے بسکٹ خریدنے کے لیے گیا تھا، لیکن وہ وقت پر گھر واپس نہ لوٹ سکا۔ بعد ازاں رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے دوسرے شہر سے اپنے گھر واپس پہنچا۔ اس واقعے نے والدین کے دلوں میں خوف و بے چینی پیدا کر دی اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
آج والدین اپنے بچوں کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ اسکول، مدرسہ، بازار یا کھیل کا میدان، ہر جگہ انہیں اپنے بچوں کی فکر لاحق رہتی ہے۔ یہ کیفیت کسی بھی مہذب اور پرامن معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ یہ صورتحال صرف والدین ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر آج ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل اس کے نتائج مزید خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو احتیاطی تدابیر سکھائیں، انہیں اجنبی افراد سے محتاط رہنے کی تلقین کریں اور حتی الامکان ان کی نگرانی کریں۔ بچوں کو یہ بھی بتایا جائے کہ کسی اجنبی شخص کے ساتھ نہ جائیں اور کسی قسم کے لالچ میں نہ آئیں۔ مدارس، اسکولوں اور سماجی اداروں کو بھی بچوں میں حفاظتی شعور بیدار کرنے کے لیے خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اساتذہ اور سرپرستوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ بچے محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کریں اور ان کی نقل و حرکت پر مناسب توجہ دی جائے۔ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے اور عوام کو تحفظ کا احساس دلائے۔ اسلام نے بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ پر خصوصی زور دیا ہے۔ بچوں کی جان، مال اور عزت کی حفاظت والدین، اور سماج سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں بچے محفوظ ماحول میں زندگی گذاریں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پورا معاشرہ بیدار ہو۔ اگر ہم اپنے بچوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے تو ہمارا مستقبل بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔