ایکـــــــــ تاثراتی مضمون نازیہ ذاکر شیخ — ایک معلمہ، ایک رہبر، ایک خواب: از قلم ؛خان نویدالحق انعام الحق اسپیشل آفیسر فار اردوٗ بال بھارتی ،پوٗنہ
Author -
personحاجی شاھد انجم
جولائی 17, 2026
0
share
نازیہ ذاکر شیخ کو جماعت دوم کی درسی کتاب پیش کرتے ہوئے خان نویدالحق انعام الحق
ایک استاد صرف علم نہیں دیتا، وہ آنے والی نسل کا مزاج بناتا ہے.
علم ایک روشنی ہے، لیکن اس روشنی کو مسلسل جلائے رکھنے والا کوئی نہ کوئی چراغ ہوتا ہے — ایسا چراغ جو نہ تھکتا ہے، نہ بجھتا ہے، نہ رکنے کا سوچتا ہے۔
ایسا ہی ایک روشن چراغ ہے: محترمہ نازیہ ذاکر شیخ۔
25 سال سے زائد عرصے پر محیط ان کی تدریسی و انتظامی خدمات، ایک ایسی کہانی ہے جو جذبے سے شروع ہوئی، جدوجہد سے گزری، اور آج مثال اور معیار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ● علم سے عشق، تدریس سے لگن ❤️
نازیہ شیخ صاحبہ کی شخصیت میں استاد کا وہ روایتی وقار بھی ہے، اور جدید عہد کی فکری لچک بھی۔
ان کی تعلیم — HSC، D.Ed، M.A، B.Ed، DSM، PSLM — یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ خود کو مسلسل بہتر بنانے پر یقین رکھتی ہیں۔
انھوں نے 22 برسوں تک معاون معلمہ کی حیثیت سے بےلوث خدمات انجام دیں، اور اب صدر معلمہ کی حیثیت سے ایک پورے تعلیمی قافلے کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ ● کامیابیوں کا سفر ❤️
تین بار مثالی معلمہ کا اعزاز
ایک بار مثالی صدر معلمہ کا خطاب
ضلعی سطح پر مضمون نویسی مقابلے میں اوّل پوزیشن
اسکول کو ریاستی سطح پر دو ایوارڈز
اسکول کی شمولیت مہاراشٹر کے 100 بہترین اسکولوں میں
اساتذہ نے ان کی رہنمائی میں متعدد توصیفی اسناد حاصل کیں
ان کے ہر کارنامے کے پیچھے ایک غیر مرئی لگن اور خاکساری کی وہ روشنی ہے جو صرف سچے مربی ہی کے دل میں جلتی ہے. ● زبان و تہذیب کی علمبردار ❤️
نازیہ شیخ صرف بچوں کی استاد نہیں بلکہ اردو زبان کی ایک بے آواز سپاہی ہیں۔
انھوں نے بال بھارتی پونہ میں اردو لسانی کمیٹی کی رکن کی حیثیت سے اردو نصاب میں فکری وسعت، ادبی لطافت اور لسانی سادگی کو جگہ دلائی۔
ان کے نزدیک اردو صرف ایک مضمون نہیں، ایک تہذیبی اثاثہ ہے، ایک جمالیاتی طرزِ زندگی ہے ۔ ● قیادت کی نئی تعریف ❤️
انھوں نے قیادت کو فقط حاکمانہ انداز تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے تربیت، سہارا اور راہ نمائی کے ذریعے سنوارا۔
ان کے اسکول میں ای لائبریری، انٹریکٹیو کلاس رومز، ہمہ جہت نشوونما، اخلاقی تربیت اور جدید تدریسی طریقے متعارف ہوئے۔
وہ ایسے خواب دیکھتی ہیں جن میں ہر طالب علم صرف کامیاب نہیں، با کردار انسان بنے۔ ● نرمی میں سختی، سادگی میں وقار ❤️
ان کی شخصیت ایک متوازن امتزاج ہے۔
جہاں سنجیدگی ہے، وہاں محبت بھی ہے۔
جہاں اصول ہیں، وہاں گنجائش بھی ہے۔
ان کے شاگرد ہوں یا رفقائے کار، سب ان سے کچھ نہ کچھ ضرور سیکھتے ہیں — کبھی الفاظ سے، کبھی عمل سے، کبھی خاموشی سے۔ ● ایک ایسا خواب جو ابھی مکمل نہیں ❤️
نازیہ ذاکر شیخ اب بھی سفر میں ہیں۔ ان کا عزم ہے:
طلبہ کی ہمہ جہت تربیت
اساتذہ کی جدید تربیتی ورکشاپس
تعلیمی معیار کو قومی و عالمی سطح سے ہم آہنگ کرنا
زبان، ادب، اخلاق، حب الوطنی اور انسان دوستی کے جذبے کو فروغ دینا یہ سب محض جملے نہیں — بلکہ وہ مشن ہیں جن پر وہ خاموشی سے، تسلسل سے، تنہا نہیں، بلکہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ تعلیم کے بامقصد چمن میں نازیہ ذاکر شیخ ایک ایسی مہک ہیں جو نہ صرف محسوس کی جاتی ہے بلکہ دوسروں تک منتقل بھی ہوتی ہے۔
وہ صرف ایک استاد نہیں — وہ ایک روشن خیال رہبر، ایک باوقار منتظم، اور ایک زندہ روایت ہیں۔ ان کا ذکر ہو تو زبان رکتی ہے، لیکن دل تحسین سے بھر جاتا ہے۔ علم تو کئی دے گئے، لیکن کردار بنانے والے کم ہی ملے…
نازیہ شیخ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جو دونوں کام کر رہے ہیں!" خان عارفہ نویدالحق
موظف معلمہ، ممبئی میونسپل کارپوریشن،
ممبئی. _-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_- محترمہ نازیہ ذاکر شیخ صاحبہ کی خدمات و شخصیت پر مبنی تاثراتی مضمون: یہ مضمون عمومی تعارف سے ہٹ کر دل سے
نکلے ہوئے محسوسات، مشاہدات اور عقیدت کا عکس ہے، جس میں شخصیت کو صرف معلوماتی نہج پر نہیں بلکہ جذباتی اور فکری زاویے سے پیش کیا گیا ہے.
---
نازیہ ذاکر شیخ — وہ چراغ جو بجھنا نہیں جانتا کچھ شخصیات کتابوں کے باب کی طرح ہوتی ہیں — ترتیب سے لکھی ہوئی، مکمل، بامقصد۔ ان کے بارے میں کچھ بھی لکھیں تو لگتا ہے جیسے کوئی قلم روشنائی سے زیادہ دل کی دھڑکنیں بہا رہا ہے۔ نازیہ ذاکر شیخ بھی ایک ایسی ہی شخصیت ہیں — خاموشی سے خدمت کرنے والی، خلوص سے زندگی کو برتنے والی اور علم و تربیت کو ایک مقدس فریضہ سمجھنے والی۔ مَیں نے جب پہلی بار ان کا نام سنا تو محض ایک صدر معلمہ کی حیثیت سے سنا، لیکن جب ان کی تعلیمی و تدریسی خدمات پر نظر پڑی، ان کے خوابوں اور وژن کو جاننے کا موقع ملا، تو احساس ہوا کہ وہ ایک عہد ساز معلمہ ہیں۔ اُن کے عمل کا دائرہ اسکول کے چار دیواری سے نکل کر نسل سازی کی فضا تک پھیل چکا ہے۔ تدریس: ایک پیشہ نہیں، ایک مقدس عہد
نازیہ شیخ 25 سالہ طویل تعلیمی سفر میں، صرف "پڑھانے" والی نہیں رہیں، بلکہ "بنانے" والی بنیں۔
ان کی تدریس محض نصاب کی حد تک نہیں، وہ بچوں کے ذہنوں میں سوچنے کے در وا کرتی ہیں، ان کے خوابوں کو پر دیتی ہیں، ان کے رویّوں میں شائستگی اور اخلاق پیدا کرتی ہیں۔
ان کے شاگرد انھیں آج بھی یاد کرتے ہیں — ایک ایسی معلّمہ کے طور پر جو سخت تھیں، لیکن نرمی سے دل جیت لیتی تھیں۔ جو اصول پسند تھیں، لیکن ہر بچے کی انفرادیت کو جگہ دیتی تھیں۔ ان کی گفتگوٗ میں ماں کی مَمتا، استاد کا ضبط اور قائد کی بصیرت محسوس ہوتی ہے۔ قیادت کا سفر: تدریس سے تدبیر تک
جب وہ معاون معلمہ تھیں تب بھی ان کے کام میں ایک رہنما کی جھلک تھی، لیکن جب وہ صدر معلمہ بنیں، تو ان کے اندر کا منظم دماغ اور پرعزم دل پوری طرح سے بیدار ہوا۔
اسکول کو ریاست کے بہترین 100 اداروں میں شامل کروا دینا کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔ اس کے پیچھے ہر دن کی محنت، ہر رات کا خواب، اور ہر لمحہ کی ذمہ داری ہے۔
انھوں نے اسکول کو ادارہ بنایا، ادارے کو مثال بنایا، اور مثال کو مسلسل جاری رکھنے والا کارنامہ بنا دیا۔ ایک معلمہ، جو خود بھی سیکھتی ہے
ہم اکثر استاد کو وہ مانتے ہیں جو صرف سکھاتا ہے۔ لیکن نازیہ شیخ اساتذہ کی اس نسل سے تعلق رکھتی ہیں جو خود بھی سیکھتی ہے، اپ ڈیٹ رہتی ہے، اور نئے زمانے کو اپنانے سے نہیں گھبراتی۔
ڈی ایڈ سے لے کر ایم اے، بی ایڈ، ڈی ایس ایم، پی ایس ایل ایم — ہر کورس ان کے عزم کا آئینہ ہے کہ وہ تعلیمی میدان میں صرف وقت گزارنے نہیں بلکہ وقت بنانے آئی ہیں۔
وہ تعلیمی ویڈیوز بناتی ہیں، نصاب پر نظر رکھتی ہیں، بچوں کی نفسیات کو سمجھتی ہیں، اور تربیتی ورکشاپس میں نئی راہیں تلاش کرتی ہیں۔ بال بھارتی سے وابستگی: اردو زبان کی ترجمان
ان کا بال بھارتی سے جُڑنا صرف رسمی حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ ایک لسانی مشن کا عکس ہے۔ اردو لسانی کمیٹی کی رکن کی حیثیت سے انھوں نے اُردوٗ نصاب کے معیار، اسلوٗب اور معنویت میں اپنا حصہ ڈالا۔
اُردوٗ کو فقط مضمون نہیں بلکہ ایک زندہ زبان کی حیثیت دلانے کی کوشش کی۔
اُردوٗ اُن کے لیے محض ذریعۂ تعلیم نہیں، بلکہ ذریعۂ تہذیب، شائستگی، اور فکر ہے۔ اور یہی ان کی علمی زندگی کا امتیاز ہے۔ دل کے قریب — ان کی شخصیت
جو لوگ ان کے ساتھ کام کر چکے ہیں، وہ گواہ ہیں کہ نازیہ شیخ جیسی شخصیتیں کم یاب ہوتی جا رہی ہیں۔ وہ تنقید کو سننے، مشورہ لینے، اور اصلاح کو اپنانے کا ہنر جانتی ہیں۔
ان کا چہرہ جتنا پر سکون ہوتا ہے، دل اتنا ہی متحرک۔
ان کی زبان سے کبھی تھکن یا شکوہ سنائی نہیں دیتا۔ وہ ہر کامیابی پر شکر، اور ہر رکاوٹ پر تدبّر کرتی ہیں۔ ان کے خواب، ان کے ارادے:
ایک ایسا تعلیمی نظام جہاں ہر بچہ صرف کامیاب نہیں، بلکہ باوقار انسان بنے ایک ایسا اسکول جہاں صرف نتائج نہ گنے جائیں، بلکہ نیت، محنت اور اخلاق کو بھی تولا جائے ایسے اساتذہ کی تیاری، جو صرف نصابی ماہر نہ ہوں، بلکہ رحمدل، رہنما اور روحانی مرشد ہوں ای لائبریری، انٹریکٹیو کلاس رومز، تربیتی ویڈیوز — یہ سب صرف منصوبے نہیں، ان کے دل کی آواز ہیں۔ خاتمہ، لیکن اختتام نہیں:
نازیہ ذاکر شیخ کا تعلیمی سفر ختم نہیں ہوا۔ وہ اب بھی راستہ بنا رہی ہیں، اور ہم سب ان کے پیچھے روشنی میں چل رہے ہیں۔ ایسے لوگ نہ تعارفی نوٹ کے محتاج ہوتے ہیں، نہ تصویری سیشن کے۔ وہ اپنے کردار سے بولتے ہیں۔ اور کردار کبھی خاموش نہیں ہوتا۔ نازیہ شیخ — وہ چراغ ہیں جو خود کو جلانے کے فن سے واقف ہیں۔
جو اندھیروں سے الجھتے نہیں، بلکہ انھیں علم کی روشنی سے پگھلانے کا ہنر رکھتی ہیں۔