نیویارک میں بین المذاہب مکالمہ، اجمیر شریف کا محبت، رواداری اور انسانیت کا پیغام
Author -
personحاجی شاھد انجم
اگست 20, 2026
0
share
روزنامہ ملاپ دہلی نیویارک/اجمیر شریف، 19 اگست: نیویارک کے مین ہٹن میں بھارتیہ ودیا بھون یو ایس اے اور چشتی فاؤنڈیشن اجمیر شریف کے اشتراک سے “Many Paths… One Destination!” کے عنوان سے ایک اہم بین المذاہب مکالمے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں، دانشوروں، سفارت کاروں، ثقافتی شخصیات اور بھارتی و جنوبی ایشیائی نژاد امریکی شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بھارتیہ ودیا بھون کے 17ویں منزل پر واقع آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں ہندو، مسلم، عیسائی، یہودی، سکھ، جین اور بدھ مت سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔ منتظمین کے مطابق ہال مکمل طور پر بھر گیا جبکہ متعدد شرکا نے کھڑے ہو کر پروگرام میں شرکت کی۔ تقریب کے کلیدی مقرر درگاہ اجمیر شریف کے گدی نشین اور چشتی فاؤنڈیشن کے چیئرمین حاجی سید سلمان چشتی تھے۔ انہوں نے خواجہ معین الدین چشتیؒ، خواجہ غریب نواز کی آٹھ سو سال سے زائد قدیم روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اجمیر شریف کا دروازہ ہمیشہ مذہب، ذات اور قومیت کی تفریق کے بغیر تمام انسانوں کے لیے کھلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چشتی روایت انسان کو دریا جیسی سخاوت، سورج جیسی محبت اور زمین جیسی مہمان نوازی کا درس دیتی ہے۔ ان کے مطابق مختلف مذاہب اور روایات کے درمیان مکالمے کی بنیاد اختلاف کے بجائے مشترکہ انسانی اقدار پر ہونی چاہیے۔ معروف شیف اور فلم ساز وکاس کھنہ نے خوراک کو انسانوں کو قریب لانے والی مشترکہ زبان قرار دیا۔ انہوں نے کورونا وبا کے دوران بھارت میں لاکھوں افراد تک کھانا پہنچانے کے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور کھانا فراہم کرنے والے ہاتھ کو بھی مذہبی تفریق نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ساتھ کھانا کھانے والے لوگ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہونا چھوڑ دیتے ہیں۔ گلوبل سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے صدر جوناتھن گرانوف نے مکالمے کی نظامت کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دنیا میں تباہی کی انسانی صلاحیت باہمی اعتماد پیدا کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی ہے، اس لیے بین المذاہب مکالمہ عالمی امن اور سفارت کاری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مصنف یعقوب میتھیو نے مختلف مذہبی روایات میں موجود روحانی جستجو کی مشترکہ خصوصیات پر روشنی ڈالی، جبکہ بھارتیہ ودیا بھون یو ایس اے کے چیئرمین ڈاکٹر نوین مہتا نے کہا کہ ان کے ادارے کی بنیاد اس یقین پر رکھی گئی تھی کہ جہاں سیاست تقسیم پیدا کرتی ہے وہاں ثقافت انسانوں کو جوڑ سکتی ہے۔ تقریب میں باربرا ونسٹن، لنڈسے سی ہاورڈ، پرنس دمتری، کیرول بیلیڈورا اور ڈیوڈ ایم ہیز سمیت متعدد نمایاں شخصیات نے بھی شرکت کی۔ یہ اجتماع بھارت کے یوم آزادی کی تقریبات کے ہفتے کے دوران منعقد ہوا۔ پروگرام کے اختتام پر تمام شرکا کے لیے لنگر کی روایت کے تحت سبزی خور کھانا پیش کیا گیا۔ اس کا اہتمام نیویارک کے کاروباری شخصیت اور ریسٹوریٹر جمی رضوی کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ منتظمین کے مطابق مشترکہ دسترخوان تقریب کا محض اختتامی حصہ نہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کا عملی اظہار تھا۔ چشتی فاؤنڈیشن کے مطابق ادارہ 2007 سے دنیا کے 90 سے زیادہ ممالک میں اقوام متحدہ، جی 20، آر 20، آسیان اور برکس سمیت مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر چشتی صوفی روایت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام پیش کرتا رہا ہے۔ منتظمین نے بتایا کہ خواجہ غریب نوازؒ کی درگاہ پر روزانہ تقریباً 40 ہزار زائرین آتے ہیں جبکہ سالانہ عرس کے دوران یہ تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ان کے مطابق اجمیر شریف کی یہ روایت جنوبی ایشیا میں مذہبی تکثیریت اور مشترکہ تہذیب کی عملی مثال ہے۔ نیویارک کی کامیاب تقریب کے بعد “Many Paths… One Destination!” مکالمہ سلسلے کو آگے بڑھانے پر بھی بات چیت جاری ہے اور مستقبل میں نیویارک اور اجمیر شریف میں مزید اجتماعات منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔ x