کتابیں ہماری سچی رہنما: یومِ ترغیبِ مطالعہ اور اس کا پیغام
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 15, 2026
0
share
ہر سال ۱۵ اکتوبر کو سابق صدر جمہوریہ ہند اور عظیم سائنس داں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے "یومِ ترغیبِ مطالعہ" منایا جاتا ہے۔ یہ دن کیوں منایا جاتا ہے؟ آئیے اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔ 1- پس منظر اور مقصد: ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام صاحب کی پوری زندگی کتابوں، مطالعہ اور تفکر سے عبارت تھی۔ جب وہ راشٹرپتی بھون سے رخصت ہوئے تھے، تو ان کے پاس سونے چاندی کے بیش قیمت تحفے نہیں، بلکہ ہزاروں کتابوں کا ایک قیمتی ذخیرہ اور ان کے چند کپڑے تھے۔ کلام صاحب اکثر بچوں اور نوجوانوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کرتے تھے کہ کتابیں ہماری سب سے بہترین اور مخلص دوست ہیں، جو کبھی دھوکہ نہیں دیتیں۔ آج کے ڈیجیٹل اور تیز رفتار دور میں، جہاں موبائل اسکرین، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے بچوں کی توجہ کو کتابوں سے بھٹکا دیا ہے، وہاں مطالعہ (Reading) کی اہمیت کو دوبارہ زندہ کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت بن گیا ہے۔ ۱۵ اکتوبر کو ‘ریڈنگ انسپریشن ڈے’ کے طور پر منانے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو واپس کتابوں کی تہذیب سے جوڑیں، ان میں پڑھنے کا شوق پیدا کریں اور ڈاکٹر کلام کے عظیم نظریات کو گھر گھر تک پہنچائیں۔ 2- مطالعے کے فوائد: علم اور شعور کی بیداری: کتابیں صرف صفحات اور سیاہی کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ یہ انسانی ذہن کی تعلیم اور تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ مطالعے کے بے شمار فوائد ہیں، جن میں چند اہم پہلو یہ ہیں: * ذہنی افکار کی وسعت اور توسیع: کتاب پڑھنے سے انسان کی فکر کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ نئے الفاظ، تراکیب اور موضوعات پر گرفت مضبوط ہوتی ہے۔ * تخلیقی صلاحیتوں (Creativity) کا فروغ: مطالعہ کرنے والے بچے رٹن ودیا سے دور ہو کر چیزوں کو گہرائی سے سمجھنے اور خود سے سوچنے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ * کردار سازی اور اخلاقی پابندی: اچھی اور معیاری کتابیں بچوں میں حیا، سچائی، بڑوں کا ادب، اور انسانیت کی خدمت جیسے عظیم اخلاقی اوصاف پیدا کرتی ہیں۔ * لفظی ذخیرے (Vocabulary) میں اضافہ: جو بچے کثرت سے پڑھتے ہیں، ان کی گفتگو، تحریری صلاحیت (Writing Skill) اور زبان پر پکڑ بے حد مضبوط ہو جاتی ہے، جو انہیں امتحانات میں بھی شاندار کامیابی دلاتی ہے۔ 3- بچوں کے اندر اس سے کیا ترغیب ملے گی؟ (طلبہ کے لیے حوصلہ افزائی) جب ہم اسکولوں اور علمی اداروں میں اس قسم کے دن مناتے ہیں، تو بچوں پر اس کے گہرے اور مثبت نتائج سامنے آتے ہیں: * آئیڈیل شخصیت کا تعارف: بچوں کو جب ڈاکٹر کلام کی زندگی کا یہ پہلو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اخبار بیچ کر تعلیم حاصل کی اور مطالعہ کے ذریعے بلندیوں کو چھوا، تو بچوں کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہوتا ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، اگر لگن سچی ہو، تو کوئی بھی منزل دور نہیں۔ * کتابوں سے بے رخی کا خاتمہ: یہ دن بچوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ گیمنگ اور ورچوئل دنیا سے باہر نکل کر، لائبریری کے خاموش اور پرسکون ماحول میں بیٹھ کر کتابوں کے ساتھ وقت گزارنا کتنا روحانی اور ذہنی سکون دیتا ہے۔ * مقابلے کا جذبہ اور علمی بیداری: اسکول کی سطح پر جب بک ریویو، مضمون نویسی، اور خطابت جیسے مقابلے منعقد ہوتے ہیں، تو بچوں میں آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو مانجھنے کا بہترین ذوق پیدا ہوتا ہے۔ 4- دارالعلم انگلش میڈیم اسکول کا عزم: مالیگاؤں کے علمی اور تہذیبی حلقوں میں ہمارا ادارہ ‘دارالعلم انگلش میڈیم اسکول’ بچوں کی جسمانی، اخلاقی اور علمی تربیت کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ ایک اچھی کتاب اور ایک اچھا استاد انسان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ اس موقع پر ہم اپنے اسکول کے تمام طلبہ، ان کے والدین اور شہر کے تمام معزز شہریوں سے پرخلوص اپیل کرتے ہیں کہ ہم سب مل کر اپنے بچوں کے اندر مطالعے کا شوق بیدار کریں۔ بچوں کو تحفے میں کھلونوں کے ساتھ ساتھ اچھی، بامقصد اور معیاری کتابیں دینے کی عادت ڈالیں۔ گھروں میں چھوٹی سی ‘ہوم لائبریری’ یا کارنر بنانے کی روایت شروع کریں، تاکہ ہمارے بچے علم کے نور سے روشن ہو کر شہر، ملک اور ملت کا نام روشن کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کو علم کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ہمیں ڈاکٹر کلام کے علمی مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ منجانب: ڈپارٹمنٹ آف میڈیا، دارالعلم انگلش میڈیم اسکول، درے گاؤں کیمپس، مالیگاؤں۔