بارسی ٹاکلی، جھوٹی شکایت کے ذریعے اساتذہ کی کردارکشی پر تعلیمی حلقوں میں ناراضگی خواتین کی بڑی تعداد کی موجودگی میں منعقدہ پروگرام پر بھی اٹھائے گئے سوالات؛ فرضی ای میل اور مبینہ ہتکِ عزت کے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ
Author -
personحاجی شاھد انجم
اکتوبر 16, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) سرکاری اساتذہ کے خلاف گمنام شکایت کے ذریعے مبینہ کردارکشی کیے جانے کا معاملہ تعلیمی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ مقامی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق، اس کارروائی میں کسی مدرس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے کو لے کر تعلیمی حلقوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے اور پیشہ ورانہ اخلاقیات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ موصولہ تحریری شکایت کے مطابق، آکولہ ضلع پریشد کے تین اساتذہ شفیق احمد خان محبوب خان، رضوان الدین حکیم الدین اور سید اسرار سید رشید ، نے بارسی ٹاکلی پولیس اسٹیشن میں اُس نامعلوم شخص کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت کنندگان کا الزام ہے کہ ایک نامعلوم شخص نے مبینہ طور پر فرضی نام اور ای میل آئی ڈی کا استعمال کرتے ہوئے ڈویژنل کمشنر، امراوتی کو ای میل بھیجا اور ان کے خلاف گمراہ کن شکایت کی۔ 3 اکتوبر 2026 کو بارسی ٹاکلی کے دادا حیات قلندر ہال میں ریٹائر ہونے والے پرائمری اساتذہ کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔ شکایت کنندگان کے مطابق، اس پروگرام کے تعلق سے 2 اکتوبر 2026 کو ایک نامعلوم شخص نے ڈویژنل کمشنر، امراوتی کے سرکاری ای میل پتے پر شکایت بھیجی، جس میں اساتذہ کو گائے کی گوشت کی پارٹی کرنے اور کروڑوں روپے تقسیم کیے جانے سے متعلق الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جس تقریب کے خلاف شکایت کی گئی، اس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ یہ پروگرام ریٹائر ہونے والے پرائمری اساتذہ کے اعزاز میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں قریب 50 اساتذہ شریک تھے۔ ایسے پروگرام کے تعلق سے گاؤ کشی اور مالی بے ضابطگی کے سنگین الزامات عائد کیے جانے پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔ شکایت کنندگان نے اپنی تحریری درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ ایڈیشنل ضلع کلکٹر، اکولہ کی جانب سے جاری کردہ خط کے مطابق متعلقہ معاملے کی جانچ کی گئی، لیکن شکایت میں بیان کردہ الزامات کی تائید میں حقائق سامنے نہیں آئے۔ ان کے مطابق، اس کارروائی کے ذریعے ان کی سماجی اور پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، جس سے انہیں ذہنی اذیت اور ہتکِ عزت کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی سوشل میڈیا پر اس معاملے کے حوالے سے یہ شبہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مبینہ کارروائی کے پیچھے درس و تدریس سے وابستہ کوئی فرد یا افراد ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ثابت ہوتا ہے تو یہ معاملہ مزید تشویش ناک ہوگا، کیونکہ تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد سے ذمہ دارانہ رویے، باہمی احترام اور پیشہ ورانہ دیانت داری کی توقع کی جاتی ہے۔ تعلیمی حلقوں میں اس گمنام شکایت کو لے کر ہونے والی تنقید اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ غیر مصدقہ الزامات کے ذریعے کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش پورے تدریسی طبقے کے لیے باعثِ تشویش بن سکتی ہے۔ اگر کسی پروگرام یا مالی معاملے میں حقیقی بے ضابطگی کا شبہ ہو تو اس کی شکایت مستند شواہد کے ساتھ متعلقہ حکام سے کرنا ایک جائز اور ضروری عمل ہے، لیکن فرضی شناخت کے استعمال اور دانستہ کردارکشی کے الزامات کی بھی سنجیدگی سے جانچ ہونی چاہیے۔ شکایت کنندگان نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ای میل، اس کے ارسال کنندہ کی شناخت اور شکایت کے پس منظر کی تفصیلی تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی نے دانستہ طور پر جھوٹی شکایت کرکے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اساتذہ کے وقار کا تحفظ، شکایات کی شفاف جانچ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہی تعلیمی نظام میں اعتماد کو برقرار رکھنے کی بنیاد ہیں۔ اس معاملے میں بھی ضروری ہے کہ افواہوں کے بجائے حقائق کو اہمیت دی جائے اور تحقیقات کے ذریعے اصل صورتِ حال سامنے لائی جائے۔