آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے قوم وملت کے بےلوث خادم سمیع اللہ انصاری صاحب کا انتقال۔۔۔اللہ بخشش ومغفرت فرماۓ آمین از قلم ۔نعیم سلیم مالیگاؤں
Author -
personحاجی شاھد انجم
نومبر 04, 2026
0
share
گزشتہ روز محترم شکیل انقلابی چاچا کے ذریعے خبر ملی کہ ہمارے کرم فرما شہر عزیز کی معروف سماجی سیاسی شخصیت سمیع اللہ انصاری صاحب انتقال کرگۓ۔اناللہ وانا الیہ راجعون اللہ تعالی مرحوم کی بخشش ومغفرت فرماۓ۔تمام پسماندگان کو صبر جمیل مرحمت فرماۓ آمین تقریباایک ہفتے سے بیرون شہر ہونے کی وجہ سے تدفین میں شرکت نہ ہوسکی۔ مرحوم بے شمارخوبیوں کے مالک ایک بھرے پرے خاندان کے سرپرست تھے۔یقینا آپ کی رحلت نہ صرف اہل خانہ بلکہ شہرعزیز کیلیے بھی گہرا صدمہ اور نقصان سے کم نہیں ہے۔ سمیع اللہ انصاری صاحب بے باک سیاست دان کے ساتھ ہی بےخوف ایماندار صحافی بھی تھے کیوں نہ ہو کہ بے ایمانی بد عنوانی سے پاک تھے۔ ہفت روزہ اخبارہاشمی آواز کی کاپیاں گواہ ہیں۔نہایت جراتمندی کے ساتھ شہری ریاستی ملکی معاملات پر اپنی آواز بلند کرتے تھے۔اور انہیں یہ تحریک وترغیب قائدملت مرحوم غلام محمود بنات والا سے ملتی تھی۔جو مرتے دم تک نہ جھکے نہ بکے۔ہم دیکھتے ہیں لوگ پانچ دس سال میں نصف درجن پارٹیاں بدل لیتے ہیں۔مگر بنات والاصاحب کی طرح انصاری صاحب نے بھی آخری دم تک سبز ہلالی پرچم کو تھامے رکھا۔ انصاری صاحب کی زندگی جہد مسلسل سےعبارت رہی۔وہ اکثر تقاریب اور نجی محفلوں میں ہمت وترغیب کیلیے اپنی نوجوانی کے حالات واقعات بیان کرتے تھے۔گولڈن نگر جیسی پچھڑی مضافاتی بستی میں رہائش سماج دشمن عناصر کے خلاف بولنے اور لکھنے پر ان کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں تکالیف بلکہ ایک بار قاتلانہ حملہ بھی ہوامگر حق گوئی سے پیچھے نہیں ہٹے۔ مسلم لیگ سے وابستگی کے متعلق بتایا۔انصاری صاحب کی نوعمری میں بنات والاصاحب مالیگاؤں آۓ۔ان کی استقبالیہ ریلی میں انصاری صاحب کو جوش وخروش سے نعرہ لگاتے ہوۓ بنات والا صاحب نے دیکھا۔جب کھانا کھانے کیلیے بیٹھے تو فرمایا وہ نوجون کہاں ہے جو انتہائی جوش سے نعرے لگارہا تھا۔جواب ملا باہر کھڑا ہے۔فرمایااندر بلاؤ۔انصاری صاحب حاضر ہوۓ تو کہا بیٹھو میرے ساتھ کھانا کھاؤ۔ انصاری صاحب یہ واقعہ بتاتے ہوۓ روتے ہوۓکہا کہ یہ تھے غلام محمود بنات والا جوایک غیرمعروف نوعمر پاورلوم مزدور کو انتہائی شفقت سےاپنے ساتھ بٹھاکر کھانا کھلایا۔وہ دن اور آج کادن سمیع اللہ انصاری نے کبھی بنات والا کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔وہ بھی آخری دم تک انصاری صاحب پر مکمل اعتماد کرتے رہے۔ درجنوں لوگوں نے بنات والا صاحب سے فائدہ اٹھاکر انہیں دھوکہ دیا۔مگر انصاری صاحب کبھی لالچ میں نہیں آۓ۔لوگ کہتے ہیں آج پہلے کی طرح سیاست دان نہیں ۔کیا سیاست میں اتنی ایمانداری کم ہے؟ شہر عزیز میں پاورلوم ایکشن کمیٹی بنکروں کے مسائل حل کرتی آئی ہے۔نوے کی دہائی میں جب دیانہ گرام پنچایت حد میں تھا۔کارخانوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا۔ٹرانسفارمرز کی تنصیب نۓ کنکشن نہ ملنا۔وولٹیج کی تکلیف روز کے مسائل تھے۔انصاری صاحب کا اخلاص دیکھیےکہ اس علاقے میں آپ کا کاروبار کارخانہ نہ ہونے کے باوجود آپ نے انڈین یونین مسلم لیگ کی آل انڈیا تنظیم پاورلوم تحفظ کمیٹی کی شاخ دیانہ میں قائم کی۔اور اپنے ساتھی مسلم لیگ جنرل سکریٹری شکیل انقلابی ودیگر کارخانہ دار احباب کےساتھ بنکروں کے مسائل حل کرواۓ۔انہی دنوں ناچیز کا آپ سے تعلق ہوا۔ انجمن محبان ادب کے بھی سرپرست تھے۔ادبی تقاریب میں شرکت کرتے اور حوصلہ افزائی کرتے تھے۔دینی تعلیم کے ساتھ ہی عصری تعلیم کی اہمیت کو سمجھا۔اپنے لائق فائق فرزند ایڈوکیٹ ہاشم انصاری کو قانون کی تعلیم دلائی۔پوتیاں نواسے بھی ڈاکٹرس ایڈوکیٹ انجینیر ہیں۔ آخر کتنا لکھیں ہر جہت سے شاندارانسان تھے۔اللہ تعالی سے دعاگوہیں کہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرماۓ۔تمام پسماندگان کوصبر جمیل عطا فرماۓ آمین ثم آمین