ہندوستان کے موجودہ حالات: چیلنجز، مواقع اور دعوتی حکمتِ عملی انجینئر غفران قاضی اکولہ 7744938137
Author -
personحاجی شاھد انجم
نومبر 04, 2026
0
share
ہندوستان کے موجودہ حالات مسلم امت کو اپنے خول سے باہر نکلنے، اپنے اصل دعوتی منصب کو پہچاننے اور ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ اگرچہ ایک طرف مسلم امت کے خلاف حکومتی سطح پر نفرت عروج پر پہنچ چکی ہے؛ مساجد کی مسماری کے لیے بلڈوزر متحرک ہیں، بستیوں کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے ساتھ مسلمانوں کو ہر سطح پر ہراساں کر کے معاشی و سماجی طور پر مفلوج کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مزید برآں، سوشل میڈیا کے ذریعے عام ذہنوں پر روزانہ خوفناک ویڈیوز کا سیلاب اور من گھڑت افواہیں مسلط ہیں، جن کے منفی اثرات مسلم اور دیگر طبقات پر یکساں مرتب ہو رہے ہیں۔ ان گمراہ کن افواہوں کا بڑا مقصد جہاں ایک طرف برادرانِ وطن کے دلوں میں اسلام کے خلاف غلط فہمیوں کو ہوا دینا ہے تاکہ وہ اسلام کی حقیقی تصویر نہ دیکھ سکیں، وہیں دوسری طرف اس کا اصل ہدف مسلم نوجوانوں کو شدید ذہنی دباؤ اور مغلوبیت کے احساس میں دھکیلنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے، تاکہ ان پر بے بسی طاری کر کے ان کی قوتِ مزاحمت کو ختم کیا جائے اور وہ چیلنجز کے سامنے ڈٹے رہنے کا حوصلہ کھو کر ذہنی طور پر ہتھیار ڈال دیں۔ لیکن اس صورتِ حال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کسی معاشرے کی پوری تصویر صرف اس کے سیاسی حالات سے نہیں بنتی۔ اسی معاشرے میں انصاف کے لیے آواز اٹھانے والے افراد، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اور اختلافات کے باوجود جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والے شہری بھی موجود ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے اس دوسرے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حالات کی سنگینی کا ادراک رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس وقت اصل فریضہ بے بسی کے اس خول اور زنجیروں سے آزاد ہونا، ذہنی و نفسیاتی مضبوطی (Mental Resilience) اختیار کرنا اور مستقبل کا ایک واضح لائحہ عمل مرتب کرنا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو معلوم ہوگا کہ جابر طاقتوں کا یہ حربہ نیا نہیں ہے۔ جب ۱۲۵۸ء میں ہلاکو خان کی تاتاری فوج نے بغداد کو تہس نہس کیا، لاکھوں انسانوں کے خون کی ندیاں بہا دیں اور صدیوں پرانے کتب خانوں کو دریا برد کر دیا، مسلم دنیا کے ایک بڑے حصے پر وقتی طور پر ایک گہرا سناٹا اور شدید نفسیاتی دباؤ طاری ہو گیا تھا، جہاں بظاہر ایسا لگتا تھا کہ اب یہ قوم دوبارہ کبھی کھڑی نہیں ہو سکے گی اور اس کی قوتِ مزاحمت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔ لیکن اس شدید آزمائش کے دور میں بھی مسلمانوں کے علماء اور دانشوروں نے جذباتی نعروں یا وقتی ردِعمل کے بجائے دلوں کی اصلاح، کردار کی تعمیر اور بلند اخلاق کا راستہ چنا۔ اگرچہ تاتاریوں اور مختلف منگول حکمرانوں کے قبولِ اسلام کا عمل کئی ادوار پر محیط تھا، جس میں مختلف مذہبی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی عوامل کار فرما تھے، تاہم اس طویل تاریخی عمل میں مغلوب مسلمانوں کے اعصابی استحکام، ان کے بلند اخلاق اور دعوتی حکمتِ عملی نے ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ تاریخی حقیقت ثابت کرتی ہے کہ ذہنی و نفسیاتی مضبوطی، بلند اخلاق اور دعوتی حکمتِ عملی وہ بنیادی ہتھیار ہیں جو طویل المدت بنیادوں پر بدترین حالات کا رخ موڑنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اگرچہ آج کا دور تاتاریوں کے اس ہولناک عہد جیسا نہیں، لیکن مسلم طبقہ اس وقت جس گہری بے چینی، فکری اضطراب اور کٹھن حالات سے گزر رہا ہے، وہ کسی آزمائش سے کم نہیں ہے۔ ہر طرف سے گھرے ہوئے ان سنگین حالات میں جہاں ایک عام مسلمان خود کو بے بس محسوس کر رہا ہے، وہیں تاریخ کی روانی نے ایک غیر متوقع اور توجہ طلب موڑ لیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا اشارہ ہے کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھی اسباب کے بدلنے میں دیر نہیں لگتی اور خدا تعالیٰ اگر چاہے تو حق کی آواز بلند کرنے اور عدل کا ماحول بنانے کے لیے کسی بھی غیر متوقع محاذ کو متحرک کر سکتا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے ملک کی سڑکوں پر ایک بالکل الگ منظرنامہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں انصاف پسند شہری، بالخصوص نوجوانوں کا ایک زبردست اور تاریخی احتجاج لگاتار جاری ہے۔ اس ملک گیر عوامی تحریک کا آغاز حکومت کی ناکامیوں، بدعنوانیوں اور امتحانی نظام کی سنگین خرابیوں کے خلاف ہوا تھا۔ انصاف اور شفافیت کے متلاشی ان نوجوانوں نے جب اس بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، تو وہ ایک بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ وہ حکومت جو عام حالات میں کبھی استعفیٰ کا تصور تک نہیں کر سکتی تھی، اسے عوامی دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ پر مجبور ہونا پڑا۔ اِسی طرح، ملک کے نوجوان اور حزبِ اختلاف جماعتیں انتخابی عمل کی ساکھ اور شفافیت کو لے کر ایک بار پھر سرگرمِ عمل ہیں۔ ایس آئی آر کے دوران مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتخابی فہرستوں کے مسودوں سے تقریباً ۱۳ کروڑ نام حذف کیے جانے کے بعد، انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹروں کے اندراج اور ناموں کی بحالی کے طریقۂ کار پر ملک گیر بحث اور احتجاج سامنے آئے ہیں۔ یہ نوجوان اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں اب متحد ہو کر الیکشن کمیشن کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ یہ وہ حالات ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے مسلم امت کو آئینہ دکھایا کہ اسی دھرتی کے انصاف پسند شہری، بالخصوص تعمیری سوچ کے حامل نوجوان جابر حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہیں۔ یہ نوجوان حق اور سچ کے متلاشی ہیں اور اس دور میں حقیقی عدل کے پیاسے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ صورتِ حال کو صرف سیاسی کشمکش کے طور پر دیکھنے کے بجائے اس کے سماجی امکانات پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہم اِن نوجوانوں کے ساتھ تعاون کریں، ان کے سکھ دکھ میں کام آئیں، اپنے بلند اخلاق سے سچے تعلقات استوار کریں اور مشترکہ شہری مسائل، تعلیم، ماحولیات، فلاحی کام، انسانی حقوق اور عدل و انصاف کی جہدوجہد میں ان کے ساتھ مل کر کام کریں، تو قوی امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ان تعمیری کوششوں میں ہمارا ساتھ دیں گے اور اس کارِ خیر میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ جب ہم مشترکہ اقدار کی بنیاد پر ان کے ساتھ اشتراک کریں گے، تو تعصب اور نفرت پر مبنی حکومتی بیانیے کی فکری بنیادیں خود بخود کمزور پڑ جائیں گی۔ نوعِ انسانی کی اسی خیرخواہی اور دعوتی فریضے کو عام کرنے کے لئے مساجد کا کردار بھی قابلِ غور ہے مسلم کمیونٹی کے خلاف پھیلائے گئے شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے مساجد کا تعمیری استعمال اور اوپن ہاؤس (Masjid Open House) جیسے پروگرامز کا انعقاد کرنا چاہیے۔ جن میں مقامی شہریوں کو مسجد دیکھنے، اسلام کے بارے میں سوالات پوچھنے اور مسلمانوں سے براہِ راست گفتگو کرنے کا موقع ملے۔ اس طرح کے پروگرام محض رسمی تعارف تک محدود نہ رہیں، بلکہ ان میں مقامی مسائل پر گفتگو، تعلیمی رہنمائی، خون کے عطیات کی مہمات، صحت سے متعلق آگاہی اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد جیسے کام بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔ جب کسی مسجد کے دروازے خدمتِ خلق کے لیے کھلتے ہیں، تو اس کے بارے میں قائم تصورات کو براہِ راست تجربے کی روشنی میں سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ عصرِ حاضر میں برادرانِ وطن کے نوجوانوں تک پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی اور دلنشین تعارف پہنچانے کے لیے ہمیں سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ترین ٹولز کو بروئے کار لانا ہو گا۔ اس سلسلے میں مسلم طلبہ کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ یکطرفہ پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے علمی تحریروں، صحافت اور سوشل میڈیا پر سرگرم عمل ہوں۔ انہیں چاہیے کہ وہ آئیڈیا جنریشن، ترجمہ کاری اور گرافکس کے لیے الیکٹرانک و مصنوعی ذہانت کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے، رسولِ اکرم ﷺ کے مثالی اسوۂ حسنہ پر مبنی مختصر دستاویزی ویڈیوز، اینیمیٹڈ کہانیوں اور تخلیقی ڈیجیٹل مواد کو کثیر لسانی (Multi-lingual) سطح پر پیش کریں، تاکہ دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق ایک مثبت، متوازن اور حقائق پر مبنی بیانیہ تشکیل دیا جا سکے۔ ہمیں دنیا کو بتانا ہوگا کہ نبوت سے پہلے بھی مکہ کے لوگ آپ ﷺ کو صادق اور امین کے القاب سے جانتے تھے۔ امانت، سچائی اور قابلِ اعتماد کردار آپ ﷺ کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ ہندوستان کے موجودہ تناظر میں جہاں ذات پات (Caste System) ایک سنگین مسئلہ ہے، وہاں خطبۂ حجتہ الوداع کا وہ آفاقی منشور پیش کیا جائے جس میں آپ ﷺ نے انسانی برابری کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، بلکہ برتری کا واحد معیار تقویٰ اور اعلیٰ اخلاق ہے۔ عرب کے اس دورِ جاہلیت میں جہاں معصوم بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، رسولِ اکرم ﷺ نے خواتین کو عزت، احترام اور معاشرتی وقار کا نیا افق عطا کیا۔ آپ ﷺ نے بیٹیوں سے حسنِ سلوک، خواتین کے سماجی حقوق اور خاندانی نظام میں ان کے کلیدی کردار پر خصوصی زور دیا۔ سیرتِ مبارکہ کے اس روشن پہلو کو اجاگر کر کے، ہم آج کے معاشرے میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم، حقِ وراثت، صنفی احترام اور ان کے قانونی و آئینی حقوق کے تحفظ کی ایک مضبوط اور جامع بنیاد فراہم کر سکتے ہیں یہی نہیں، بلکہ فتح مکہ کے موقع پر اپنے سخت ترین مخالفین کو بلا تاخیر معاف فرما کر آپ ﷺ نے عفو و درگزر اور رواداری کی وہ اعلیٰ ترین مثال قائم کی جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ کی یہ تعلیم کہ 'وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے'، بلا تفریقِ مذہب ہر انسان کے لیے ہمدردی کا ثبوت ہے۔ آپ ﷺ نے مظلوم کی مدد کا حکم دیا اور واضح فرمایا کہ مظلوم کی بددعا سے بچو، خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ آج کے مسلم نوجوان کے لیے لازم ہے کہ وہ ان اخلاقی اقدار، سماجی خدمات اور خاندانی نظام کی حفاظت کے نبوی اصولوں کو بنیاد بنا کر ہم وطنوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھے۔ اس مقصد کے لیے مشترکہ فاؤنڈیشنز کا قیام، آپ ﷺ کے فرمان 'صفائی نصف ایمان ہے' کی روشنی میں کلین ڈرائیوز (Cleanliness Drives) کا انعقاد، اور شجرکاری و تحفظِ آب جیسے اہم ماحولیاتی موضوعات پر سیمینارز منعقد کئے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح، نشے کی لت اور معاشرتی خرابیوں کے باعث تباہی کے دہانے پر کھڑے لاکھوں خاندانوں کی بحالی کے لیے مشترکہ بیداری مہمات ایک نئی زندگی کا پیغام بن سکتی ہیں۔ اسلام کا یہی وہ پُرکشش اور عالمگیر اخلاقی نظام ہے جس کے عملی مظاہرے سے دلوں کو جیتا اور معاشرے کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ مگر یاد رہے کہ یہ پورا محاذ بے پناہ حکمت، ہمت اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتا ہے، جہاں جذباتیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اخلاق اور دعوت کے اس محاذ کے ساتھ ساتھ، ہمیں قانونی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے، ہندوستان کا آئین شہریوں کو متعدد بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے، جن میں قانون کے سامنے مساوات، مذہبی آزادی اور قانونی تحفظ سے متعلق حقوق شامل ہیں، مساجد پر بلڈوزر چلانے اور مسلمانوں کو پریشان کرنے کے حکومتی ہتھکنڈوں کا جواب قانونی طریقے سے دینا ہوگا۔ خوش قسمتی سے ہم ایک ایسی آئینی جمہوریت کا حصہ ہیں جہاں موجودہ چیلنجز کے باوجود قانونی راستوں اور جمہوری حقوق کی ایک وسیع گنجائش موجود ہے۔ جمہوری حقوق کی عملی تحفظ کے لئے وکلا، سماجی کارکنوں، متاثرہ خاندانوں اور شہری تنظیموں کے ساتھ مل کر عدالت سے رجوع کیا جائے اور خلافِ قانون اقدامات پر باقاعدہ ایف آئی آر (FIR) درج کروائی جائیں، دستورِ ہند نے ہمیں جو حقوق دیے ہیں، ان کا باشعور اور بھرپور استعمال ہی اس وقت کا ناگزیر تقاضا ہے تاکہ معاشرے میں پائیدار انصاف کی راہیں ہموار ہو سکیں۔ ظاہری اسباب جتنے بھی کٹھن ہوں، اگر امتِ مسلمہ جذباتی رویوں سے بچ کر مخلصانہ خدمتِ خلق، مستقل آئینی و قانونی جدوجہد اور پُرعزم دعوتی حکمتِ عملی کو اپنا شعار بنا لے، تو طویل المدت بنیادوں پر ایک پرامن، عادلانہ اور مستحکم معاشرے کا قیام یقیناً ممکن ہے۔