سماجی برائیوں کے انسداد کے لیے منظم جدوجہد ضروری ہے۔ جلسۂ اصلاحِ معاشرہ سے مولانا ریحان رئیس ندوی کا خطاب
Author -
personحاجی شاھد انجم
نومبر 03, 2026
0
share
معاشرے کی اصلاح کا آغاز گھر سے ہوتا ہے اور اس میں خواتین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ماں کی تربیت آنے والی نسلوں کے افکار و کردار پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت گزشتہ روز جامعہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حسن پورہ میں تنظیم علماء، ائمہ و حفاظ شہر مالیگاؤں کے زیرِ اہتمام اصلاحِ معاشرہ برائے خواتین کے عنوان سے ایک اصلاحی جلسہ منعقد ہوا، جس سے مقررِ خصوصی مولانا ریحان رئیس ندوی صاحب نے خطاب کیا، جبکہ صدارتی خطاب مفتی خالد شاہد ملی صاحب نے پیش کیا۔ مولانا ریحان رئیس ندوی صاحب نے اپنے خطاب میں قرآن و حدیث کی روشنی میں اصلاحِ نفس، خاندانی ذمہ داریوں اور حقوق اللہ و حقوق العباد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر مسلمان کو اپنی ذات کے ساتھ اپنے اہلِ خانہ کی دینی و اخلاقی تربیت کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ نماز کی پابندی، شکر گزاری، درست نیت، سچی توبہ اور گناہوں سے اجتناب ہماری دینی ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اولاد کی صحیح تربیت، حسنِ اخلاق، صبر، حیا اور اطاعتِ الٰہی کا جذبہ پیدا کرنا ان کی اہم ذمہ داری ہے۔ پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی اور حسنِ سلوک بھی ایک صالح معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔ صدارتی خطاب میں مفتی خالد شاہد ملی صاحب نے ماں کی تربیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’والدہ کی تربیت بچے کو اللہ کا نافرمان بھی بنا سکتی ہے اور ولیِ کامل بھی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اولاد کی شخصیت سازی اور مستقبل کی تعمیر میں ماں کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے خواتین کو اپنی تربیتی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ آخر میں جامعہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے ناظمِ اعلیٰ مولانا عقیل احمد قاسمی صاحب کی دعا پر جلسے کا اختتام ہوا۔