وہ رات میں کبھی نہیں بھول سکتا جب کتّوں کی بھونکنے کی آواز سے میری نیند اچاٹ ہو گئی ۔ اُن دنوں نصیر اپنے گاؤں کسی رشتہ دار کی میّت میں گیا ہوا تھا۔ اور سارے نوکر اپنے ٹھکانے عشرۂ محرم منانے گئے ہوئے تھے۔ سرونٹس کوارٹرز بھی تالہ بند تھے۔ حمید قاسم سمیت ٹیکم گڑھ چھٹّیاں منانے گیا ہوا تھا۔ کوٹھی میں میں تنہا تھا۔ جب میں برآمدے میں پہنچا تو دیکھا کمپاؤنڈ میں کتّے دیوانوں کی طرح بھونک رہے تھے۔ اور کچھ کتّے گیٹ کو وحشیانہ انداز میں جھنجھوڑ رہے ہیں۔ میں کتّوں کو آوازیں دیتا ہوا گیٹ تک پہنچا۔ اے رب العالمین! اتنے ظالم اور سفاّک بندے بھی تیری اس دنیا میں بستے ہیں؟ ایک نوجوان لڑکی خون میں تر بتر گیٹ کی سلاخوں سے لپٹی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھوں کو گیٹ کی انہیں سلاخوں سے باندھ دیا گیا تھا۔ ان کے منہ سے خون کے فوّارے اُبل رہے تھے۔ میں نے گیٹ کے تالے کھولے، لڑکی کے ہاتھوں کو نائیلون کی ڈوری سے آزاد کرایے۔ وہ کچھ بولنا چاہتی تھی مگر منہ سے صرف " اوغ اوغ " کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ میرے بازؤں میں جھول گئی۔ سلیپنگ گاؤں سے اس کا چہرہ صاف کیا تو مجھ پر بجلی گِر پڑی۔ یہ نسیم آرا تھی۔ ایک یتیم ویسیر لڑکی، فارماسسٹ تھی۔ جسے میری سفارش پر درپن فارماسیوٹیکل میں جاب ملا تھا۔ درپن فارماسیوٹکل پر مجھے عرصہ دراز سے شک تھا کہ یہاں سے ڈرگس سپلائے ہو تا ہے۔ کیونکہ یہ ملٹی نیشنل کمپنی تھی اس لیے ہاتھ ڈالنے سے پہلے سارے ثبوت اکھٹا کرنے تھے۔ میں نے نسیم آرأ کو اپنا انفارمر بنایا تھا۔ وہاں سے مجھے ویڈیو، آؤڈیو سینڈ کیا کرتی تھی۔ ابھی تک کلیو نہیں ملا تھا۔ میں نے نسیم کو انفارمیشن بند کرنے کے لئے کہا تھا۔ مگر جاسوس بننے کا شوق اسے لے ڈوبا۔ میں جانتا تھا یہ ڈرگز سپلائر انتہائی سفاک اور ظالم ہے۔ اس سے کہیں بد احتیاطی ہوگئ اور وہ نظر میں آگئی تواور اب نتیجہ میرے سامنے تھا۔ اس کی زبان جڑ سے کاٹ کر میری کوٹھی کے گیٹ سے باندھنے کا مطلب مجھے وارننگ اور چیلنج تھا۔ میں نے اپنے موبائل سے ایمبولینس کو ایمرجنسی کال کی۔ جب میں ایمبولینس میں نسیم کا سر گود میں لیے بیٹھا تھا، ڈاکٹر اور نرس اسے فرسٹ ایڈ دیے کر بلیڈنگ بند کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تو وہ میرا ہاتھ تھامے مجھ کو دیکھ رہی تھی۔ میں وہ نظر عمر بھر نہیں بھول سکتا۔ شکایت تھی؟ بے بسی تھی؟ بد دعا تھی یا یتیمی کا نوحہ تھا۔ شہر کی سب سے مہنگے ہاسپٹل گلوبل ملٹی اسپیشلیلٹی ہاسپٹل میں میں نے اسے داخل کیا۔ بہترین ڈاکٹروں کی ٹیم نے بہتیری کوششیں کی مگر اللہ کو شاید منظور نہ تھا۔ میں آج خود کو اس کے قتل کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ لوگ مجھے پتھر دل سمجھتے ہیں۔ مگر کوئی آئے تو آج پتھر کو بھی روتا دیکھ لے۔ آج بھی میری نیندیں اس کی آخری نظروں کا تصور کر کے اچاٹ ہو جاتی ہیں اس دن میں قصاص لینے کی قسم کھائی۔ مجھے میرے ضمیر کے اطمینان کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا اور میں نے کیا۔ میں نے جو کیا وہ سرکاری ریکارڈ میں نہ آیا۔ کیونکہ یہ کام میں نے ذاتی طور پر کیا۔ میرے کاندھوں پر آج بھی نسیم کے جنازے کا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ اس دن ایمبولینس میں نسیم نے اپنی خون میں ڈوبی انگلی سے میرے سیلینگ گاؤن پر ڈی۔ پی۔ (D. P) لکھ دیا تھا۔ بس یہی میرے لئے کافی تھا۔
تفصیل میں نہ جاتے ہوئے اتنا بتاتا چلوں کہ نسیم کے قتل کے چند ہفتوں بعد کا یہ واقعہ ہے۔ سنڈے کو پیراڈائز ویلی میں ایک دل خراش واقعہ پیش آیا۔ پیراڈائز ویلی نہروں، پہاڑی نالوں، اور ہریالی سے آٹی پر فضا وادی کا نام ہے جو سیلی بریٹیز کے لیے مخصوص ہے۔ عام آدمی کی اس کے کمپاؤنڈ تک کی رسائی حاصل نہیں۔ یہ ویلی کیبل کاروں کے ذریعے پار کی جاتی ہے۔ اس دن " ڈی۔ پی " اسمیں کی ایک کیبل کار میں اپنی بیوی کے ساتھ موجود تھا۔ ڈی پی کا شمار تو موسٹ سیلی برینڑز میں ہوتا تھا۔ ایک اتفاقی حادثے میں ڈی پی کی ایسی دردناک موت ہوئی کہ میڈیا کی کیمرے کپکپا گئے۔ ہوا یوں کے اس کے برابر کی کیبل کار کا کیبل چٹان کے پاس سے ٹوٹ گیا۔ تنا ہوا یہ کیبل کسی نیزے کی طرح ڈی پی کی کیبل کار کا شیشہ توڑ کر کیبل کار میں کھڑے ڈی پی کے، جبڑوں اور دانتوں کو توڑتی ہوئی گردن کے آرپار ہوگئی۔ ڈی پی کی بیوی پر ہزیان طاری ہو گیا۔ وہ چینختے جارہی تھی اور ڈی پی کے منہ سے خون کا فوارہ ابل رہا تھا۔ زبان بھرتہ بن گئی تھی۔ اس کی بیوی نے اپنی ٹی شرٹ اتار کر اس کے منہ میں ٹھونس دی تھی کہ خون کا بہاؤ رک سکے۔ میڈیکل ٹیم کو آنے میں بیس منٹ لگے۔ سیکورٹی والے دیوانوں کی طرح چاروں طرف گھوم رہے تھے۔ گردن میں پیوست کے کیبل کو کٹر سے کاٹ کر نکالا گیا۔ حرام مغز بھی متاثر تھی۔ ڈاکٹر کوہن دو دن کوما میں رہا۔ لاکھوں کوششوں کے باوجود بچایا نہ جا سکا۔ انٹلی جنس نے پیراڈائز کے اطراف میں سارے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگال ڈالی گئی مگر بے سود۔ یہاں تک کہ اسپائی کیمرے بھی شارٹ ٹرم میں ہیک گئے تھے۔ انٹلی جنس ٹیم آج بھی ڈی پی کے قتل یا حادثے کا سراغ لگانے لگانے میں جڑی ہوئی ہے۔ مگر ایک بھی کلیو ہاتھ نہ آ سکا۔ آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں؟ کہیں آپ مجھے تو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے؟
میرے سلیپنگ گاؤن پر خون سے لکھے دو حروف نے میری رہنمائی کی۔ جنگوں، دہشت گردانہ حملوں سے بھری اس دنیا میں ایک این جی اور جس کی ساری دنیا میں شاخیں تھیں۔ اس کے والنٹیئر اور رضا کار پولیس، فوج اور امدادی ٹیموں سے پہلے امداد کے ساتھ جائے حادثہ پر پہنچ جاتے تھے۔ اس کی ساری دنیا میں شاخیں تھیں۔ مقامی برانچ کا سی۔ ای۔ او۔ (C. E. O) ایک امریکی شخص ڈاکٹر جارج کوہن تھا۔ ایک قابل فارماسسٹ اور میڈیکل ڈاکٹر۔ اس نے افریقی سانپوں کے زہر پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے رکھی تھی۔ زہر سے تریاق بنانے کا ماہر تھا۔ اس کے میڈیکل فارمولے سے دنیا کی بڑی بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں استفادہ کیا کرتی تھیں۔ اس کی کمپنی کے شیئر ہولڈر ساری دنیا میں پھہلے ہوئے تھے۔ طبی حلقوں میں اسے ڈاکٹر پوائزن کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ تو ڈی پی (D. P ) کا مطلب تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ جس کی لیپی میرے سلیپنگ گاؤن پر نسیم نے خون سے لکھی تھی۔ حادثے کے دن میں نے اپنی کوٹھی کے سارے سی سی ٹی وی اور خفیہ کیمروں کے فوٹیج کھنگال ڈالے تھے۔ سارے کیمرے ہیک کر لیے گئے تھے۔ اس ڈی پی کے حروف نے ہی مجھے جارج کوہن تک پہنچایا۔ میں نے خفیہ طریقے سے ڈاکٹر کوہن کے معمولات کی اسٹڈی کی۔ اس کام پر میں نے بلیک فورس سے بھی کام لیا۔ ساری سرگرمیوں کو ریکارڈ کرتا گیا۔ ساری تفصیلات اپنے پن ڈرائیو میں سیو کر کے بے شمار راتیں اپنے کمپیوٹر پر جاگنے میں گزاریں۔ پھر وہ دن مجھے نصیب ہوا جس کا مجھے انتظار تھا۔ ڈاکٹر کوہن کے معمولات کا شیڈول میرے کمپیوٹر اسکرین پر تھا۔ بارہا میں نے باریک بینی سے اسٹڈی کی اور یک سوپر پلان بنایا۔ وہ قصاص کا دن تھا۔ ڈی پی مہینے کے آخری سنڈے کو پیراڈائز ویلی کی سیر کرنے اپنی بیوی کے ساتھ ہوتا تھا۔ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ۔ لیکن وہ حادثہ ہونا تھا اور ہو کر رہا۔
ہاں! یہ بات تو بتانا ہی بھول گیا۔ اس دن نسیم آراءکی قبر پر ایک شخص کھڑا آبدیدہ آنکھوں اور لرزتے ہونٹوں سے دعائیں کر رہا تھا۔ کون کہتا ہے وہ یتیم ولیسیر تھی؟ ملک کا سب سے بااثر آدمی اس کا سرپرست جو موجود تھا۔




