کھام گاؤں 6, اکتوبر (واثق نوید) ناندیڑ، اورنگ آباد اور ریاست کے دیگر سرکاری اسپتالوں میں ضروری ادویات اور مناسب عملہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریضوں کی حالیہ اموات کو لیکر ملک کی معروف عوامی تحریک موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس فار ویلفیئر (ایم پی جے )نے آج ناندیڑ میں احتجاجی جلوس نکالا اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے آفس کے سامنے دھرنا دیکر ریاست میں لوگوں کو بہتر طبّی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔
غور طلب ہے کہ ناندیڑ کے شنکر راؤ چوہان گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں 35 مریض ، اورنگ آباد کے سرکاری اسپتال میں 24 مریض اور ناگپورکے سرکاری اسپتالوں میں23 لوگوں کے فوت ہونے کی خبر ہے ۔ مرنے والوں میں شیر خوار بچے بھی شامل ہیں۔ گذشتہ ماہ تھانے کے میونسپل اسپتال میں بھی 24 گھنٹے کے اندر 18 مریضوں کی موت ہونے کی خبر آئی تھی۔
آپ کو بتا دیں کہ ایم پی جے گزشتہ کئی سالوں سے ریاست میں صحت عامہ کی خراب حالت کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرتی رہی ہے اور صحت عامہ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی درخواست کرتی آئی ہے ۔
آج ناندیڑ میں سرکاری اسپتالوں میں بڑی تعداد میں ہو رہے اموات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایم پی جے کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ "یہ ایک سنگین صورتحال ہے جس پر حکومت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ضروری ادویات اور مناسب عملہ کی عدم دستیابی ہزاروں مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ لیکن بڑے افسوس کے ساتھ ہمیں یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم کووڈ-19 سے ہونے والے نقصان سے سبق حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ریاست کے سرکاری اسپتالوں میں دواؤں اور عملے کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی موت کی خبریں لگاتار اخبارات کی سرخیاں بن رہی ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ تپ دق کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے مریضوں کو کچھ عرصے سے دوائیں نہیں مل رہی ہیں۔ تپ دق کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے مریضوں کو دوائیں فراہم کرنے میں ناکامی صحت عامہ کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ اس سے ریاست میں ٹی بی انفیکشن میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے"۔
ہم حکومت مہاراشٹر سے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ہماری حکومت سے درخواست ہے کہ مہاراشٹر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ہمیشہ تمام ضروری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنائیں ، سرکاری اسپتالوں میں عملے کی کمی کو دور کرنے کے لئے مزید پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کریں، سال 2025تک جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کے قومی صحت پالیسی کے ہدف کو پورا کرنے کے لئے صحت پر سرکاری اخراجات میں اضافہ کریں،سرکاری ہسپتالوں میں لاپرواہی یا ادویات کی قلت، افرادی قوت اور آلات کی عدم دستیابی وغیرہ کی وجہ سے ہونے والی اموات کی ذمہ داری طے کرنے کے لئے اقدامات کریں اور صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کی نجکاری بند کریں۔انہوں نے کہا کہ لوگ سرکاری اسپتالوں میں جانے سے ڈرنے لگے ہیں ، لہٰذا حکومت کو ان کے دلوں سے یہ خوف دور کرنے کا کام کرنا چاہیے ۔
ایم پی جے ضلع صدر اظہر خان نے کہا کہ مہاراشٹر کے لوگ بہتر طبّی سہولیات کے مستحق ہیں۔لہٰذا ہم حکومت سے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرنے اور تمام شہریوں کو معیاری ، سستی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی حاصل کرنے کو یقینی بنانے کی درخواست کرتے ہیں ، تاکہ مستقبل میں ادویات ، عملے اور آلات کی کمی کی وجہ سے کسی کو بھی اپنی زندگی نہ گنوانی پڑے ۔
ہم امید کرتے ہیں کہ مہاراشٹر حکومت ہمارےمطالبات پر سنجیدگی سے غور کریگی اور ان مسائل کو حل کرنے کے لئے فوری کارروائی کریگی ۔ اس موقع پر ایم پی جے کی پوری ٹیم کے ساتھ جناب الطاف حسین سر، ایس ایم صمیم عبید الرحمن، محمد اسلم، مشتاق پٹھان، ملکہ فردوس، ایڈووکیٹ نغمہ اور دیگر ذمہ داران موجود تھے۔






