بھارت ہمارا مادر وطن جغرافیائی لحاظ سے ایک عظیم تنوع اور رنگارنگی رکھتا ہے۔ بھارت شمالی اور مشرقی نصف کرے میں واقع بر اعظم ایشیاء کا اہم ملک ہے۔ جس کے درمیان سے خط سرطان گزرتا ہے۔ بھارت کا کل رقبہ 3287,263 مربع کلومیٹر ہے۔ بھارت ایک جانب تو ہمالیہ کے دامن میں واقع ہے اور دوسری جانب بحراعظموں سے گھرا ہوا ہے۔ حال ہی میں امریکہ کے نیشنل سمندری اور فضائی انتظامیہ (National Oceanic & Atomospheric Administration) نے یہ انکشاف ظاہر کیا کہ بحر الکاہل سے بہنے والی بحری روایل نینو(EL-Nino)کا خوفناک اثر بھارت پر 2023 میں دیکھنے کو ملے گا۔ اس سے پہلے اس کا اثر 2016 میں بھارت میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ ایل نینو (EL-Nino)، اسپینش لفظ ہے۔ اس کا اثر ہر 2 سے 7 سال میں دیکھائی دیتا ہے۔
یہ بحری رو خاص طور پر سمندری پانی، حرارت نمکینیت سمندری پانی کی کثافت اور سیاریاتی ہواؤں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ایل نینو کی بہنے کی سمت اور رفتار زمین کی محوری گردش اور بناوٹ پر منحصر ہوتی ہے۔ امسال بحر الکاہل میں ایل نینو متحرک ہونے سے بھارت میں موسم سرما پر منفی اثر ہونے کا اندیشا بتایا ہے کہ اس کے اثر سے بھارت میں موسم ِ سرما میں سردی کا اثر کم رہ سکتاہے۔ اس بحری رو کی وجہ سے اگست مہینے میں بارش کم، اکتوبر مہینے میں گرمی کا اثر زیادہ ایل نینو اہم وجہ بنی ہے۔
بھارتیہ محکمہ موسمیات (IMD) نے بھی یہ اندیشہ بتایا کہ دسمبر تک بحرالکاہل میں ایل نینو (EL-Nino) کے متحرک رہنے کی وجہ سے بھارت میں موسم سرما میں ٹھنڈ اوسط کم رہے گی اور مانسون پر منفی انداز، سوکھا اور گرم خشک ہواؤں کی آمد ہو سکتی ہے۔ امریکہ کے نیشنل سمندری اور فضائی انتظامیہ (National Oceanic & Atomospheric Administration)نے دی پیشن گوئی کے مطابق ایل نینو (EL-Nino)مئی مہینے تک متحرک رہنے کے ۰۸فیصد امکانات ہے۔ جس کی وجہ سے بحر الکاہل کے سطح سمندر کے پانی کا درجہ حرارت 1.5 ڈگری سیلسی اس سے 2 ڈگری سیلسی اس کا بڑھنے کا اندیشہ ہے اور ایل نینو، (Super EL-Nino) میں منتقل ہو سکتی ہے۔



