حمید نے کراہ کر کروٹ بدلنی چاہی مگر کروٹ نہ لے سکا۔ پلکیں بوجھل ہوئی جارہی تھی۔ آنکھوں میں دھندسی چھاگئ تھی۔ وہ کسی بیڈ پر اوندھا لیٹا تھا۔ سر بھی نہیں گھما سکتا تھا۔ لگتا تھا اسے بیڈ پر کس کر باندھا گیا تھا۔ اس نے پلکوں کی جھری سے دیکھا کوئی دروازہ کھول رہا تھا۔ آنے والی کوئی نرس تھی۔ اس کے ہاتھوں میں ٹرے تھی۔ نرس نے حمید کا سر تکیے پر رکھ دیا۔ حمید نظریں اسکے شفاف نرم گلابی پیروں پر پڑیں۔ ایسے خوبصورت پیر بچپن سے اسکی کمزوری رہے تھے۔ بے اختیار چھو لینے کو دل چاہتا تھا۔ اور اکثر رومال اٹھانے کے بہانے چھو بھی لیتا تھا۔ حمید نے ہاتھ اٹھانا چاہا مگر ریڑھ کی ہڑی میں درد کی ایسی ٹیسیں اٹھیں کہ اس پر پھر سے بے ہوشی طاری ہونے لگی۔ کیا میری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے؟ حمید سوچنے لگا وہ تھرا گیا۔ نرس اس کی پیٹھ کی ڈریسنگ کرنے لگی۔
حمید کا ذہن تاریکی میں ڈوب چکا تھا۔
دوبارہ ہوش میں ایا تو یاداشت بھی لوٹ آئی۔ وہ اپنے مقابل سے بھڑا ہوا تھا۔ دونوں میں ذور آزمائی ہورہی تھی۔ قریب تھا کا حمید مقابل کو زیر کرلیتا اچانک کسی نے اسکی پیٹھ پر تلوار سے حملہ کیا۔ اسے ایسا لگا جیسے اسکی ریڈھ کی ہڈی میں آگ بھر دی گئی ہو۔ ہوش کھوتے کھوتے وہ صرف فائرنگ کی آوازیں سن رہا تھا۔ اسنے کمرے کا دروازہ کھلتے دیکھا۔ سفید یونی فارم میں کوئی اندر داخل ہو رہا تھا۔ حمید سر اٹھا کر نرس کا چہرہ دیکھنا چاہا مگر یہ ممکن نہ ہوسکا اسے بیلٹ سے بیڈ پر باندھ دیا گیا تھا کہ سر بھی ایک حد تک اٹھا سکتا تھا۔ وہ سوچنے لگا کیا میں کسی قید میں ہوں؟ حمید کی نظریں پھر نرس کے سرخ و سفید گلابی پیروں پر پڑیں۔ پھر وہی لذت آمیز سنسنی سارے جسم میں پھیل گئی۔ اسکے بعد پھر اسکے دماغ میں دھند پھیل گئی۔ بس اسے یہ احساس ہوتا رہا کہ کوئی نہایت نرمی سے پیٹھ کے زخموں کی ڈریسنگ کررہا ہے۔ پھر سے بے ہوش ہو چکا تھا۔
اس باد حواس بحال ہوئے محسوس ہوا کہ زخموں کی ٹیسیں کافی کم ہیں، سانسیں بھی نارمل چل رہی تھیں۔ آج آنکھوں کے سامنے کی دھند بھی چھٹ گئی تھی۔ اچانک دروازہ کھلا دو سرخ و گلابی پیر اسکی طرف بڑھتے چلے آرہےتھے۔ حمید کے دل کی کلی کھل اٹھی۔ حمید کی دھڑکنیں بڑھ گئیں۔ دو گلابی پیر اسکی بیڈ کے پاس آکر رکے۔حمید صرف پیروں کو دیکھ رہا تھا۔ بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ ڈریسنگ کے بعد وہ جانے لگی۔ حمید نے آواز دینی چاہی لیکن یہ ممکن نہ ہوسکا صرف ہونٹوں سے سرگوشی ہی نکل پا رہی تھی۔ اس بار شاید نرس نے خواب آور انجیکشن دیئے تھے۔ حمید کی آنکھیں بند ہوئی جارہی تھی۔ سوتے سوتے وہ سوچنے لگا کیا یہ کوئی ہاسپٹل ہے؟ یا کوئی قید خانہ؟ اکثر کیسوں میں ایسا ہی ہوا تھا۔
اس بار آنکھیں کھلیں تو دیکھا اس کا اپنا کمرہ ہے اور کرنل فریدی سامنے ریوالونگ چیئر پر بیٹھا اپنے موبائیل پر اپنے ماتحتوں کو آڈر دے رہا تھا۔ " نہیں گرفتار نہیں ڈائریکٹ انکاونٹر کرنا ہے۔ جو بھی اس گروہ کا ملے بس گولیوں سے بھون ڈالو۔ کیپٹن حمید پر جان لیوا حملہ ہوا ہے۔ حمید پر حملہ پورے ڈیپارٹمنٹ پر حملہ ہے۔ او-کے۔ " پھر حمید کو لڑکال جنگل کی مہم یک لخت یاد آ گئی۔ ہتھیاروں کے اسمگلروں کو گرفتار کرنا تھا۔ کرنل فریدی کا حکم تھا کہ بحالت مجبوری ہی فائر کرنا ہے۔ اسمگلروں کو ذندہ ہی گرفتار کرنا ہے۔ کرنل فریدی کی ٹیم مختلف سمتوں میں بکھر گئی تھی۔ حمید جس کے تعاقب میں تھا وہ فرار ہونے کی کوشش میں تھا حمید نے فائرنگ کی وارننگ دی لیکن اس نے ان سنی کردی۔ حمید نے چٹان سے چلتی جیپ میں چھلانگ لگا دی۔ اسٹیرنگ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی۔ جیپ بے قابو ہو کر ایک درخت سے ٹکرا گئی۔ حمید مقابل کو لیئے ہوئے جنگل کی نرم مٹیوں میں گرا۔ دونوں میں ایک دوسرے کو ذیر کرنے کی کوشش ہونے لگی مدّ مقابل بھی کم نا تھا۔ قریب تھا کہ حمید اس پر قابو پا لیتا یکایک کسی نے اس کی پشت پر تلوار سے حملہ کردیا اور حمید کے ہوش و حواس جاتے رہے۔ فریدی اسے بیدار ہوتا دیکھ کر خوش دلی سے مسکرایا۔ اس نے بڑے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ "کیسے ہو مائی ڈیئر" فریدی نے مٹھاس بھرے لہجے میں پوچھا ابھی زخم تازہ ہیں۔ آرام کرو ویسے تم پوری طرح خطرے سے باہر ہو۔ "
"اس سے پہلے میں کہاں تھا؟ " حمید نے بے تابی سے پوچھا۔ "وہ کونسی جگہ تھی؟ وہ پراسرار نرس کون تھی؟ حمید نے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے جواب میں فریدی نے کہا " وہ ایک انتہائی محفوظ جگہ تھی بلکل خفیہ جگہ بنکر سے بھی مضبوط جگہ۔ اسے کوئی سٹیلائٹ بھی نہیں کھوج سکتا تھا۔ دنیا میں ایسی ایسی کئی جگہ ہیں۔ حمید تم موت کے منہ سے واپس آئے ہو آرام کرو۔ ویسے بتاتا چلوں دنیا کے بہترین سرجنوں نے تمہاری سرجری کی ہے۔ تلوار تمہاری ریڑھ کی ہڈی کو چھوتی ہوئی اندر اتر گئی تھی۔ زخم کافی گہرا تھا۔ تمہاری پلاسٹک سرجری کروانی پڑی۔ اندرون دو ماہ تم چلنے پھرنے کے قابل ہوجاؤ گے۔ میں نے تمہیں کسی ہاسپٹل میں اسلئے داخل نہیں کیا کہ یہ خبر پھیل جاتی کہ کیپٹن حمید قریب المرگ ہے۔ میرے حاسدین کو افواہ پھیلانے کا موقع مل جاتا۔ "
وہ خوبصورت نرس کون تھی۔ جس نے میری تیمارداری کی تھی؟ فریدی نے اسے گھورا اور بولا تمہاری رومان پسندی ہی تمہاری موت کا سبب بنے گی۔ " تمہاری پیٹھ کے زخم ہی وہ سبب تھے کہ تمہیں بیڈ پر پیٹ کے بل لیٹا کر بیلٹ سے باندھ دیا گیا تھا ڈاکٹروں اور نرسوں کی بہترین ٹیم نے تمہاری جان بچائی ہے۔ یوں سمجھوکہ تم دنیا کے سب سے محفوظ آئی سی یو میں تھے۔ پانی کی طرح دولت بہائی ہے میں نے رب عظیم کا شکر ہے کہ تم زندہ ہو فرزند۔ "
آپ اتنا تو بتا دیں وہ خوبصورت پیروں والی کون تھی۔ " فریدی تھوڑی دیر اسے گھورتا رہا پھر ہنس پڑا۔ "وہ میری میڈیکل ٹیم کی بلیک فورس کی ایک فرانسیسی ممبر تھی۔ وہ نرسنگ میں گولڈ میڈلیسٹ تھی۔ تم جانتے ہو دنیا بھر میں میرے بلیک فورس کے ممبران موجود ہیں۔ تمہیں یہ بھی بتاتا چلو بلیک فورس کا سلیپنگ سیل بھی ہے۔ جب میں کال کرتا ہوں تب ایکٹیو ہوتے ہیں ورنہ وہ شہریوں میں گھلے ملے ہوتے ہیں۔ " حمید ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگا۔ "وہ میڈیکل لیب لڑکال جنگل کے بنکر میں قائم ہے جہاں تمہیں رکھا گیا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسے ملیٹری بھی نہ کھوج ہائے گی۔ رومانس کا جزبہ کم ہوا تو کام کی باتیں کریں؟ حمید نے اثبات میں سر ہلایا۔
میرے انفارمر نے اطلاع دی تھی کہ دہشت گردوں کو لڑکال جنگل کے راستے ہتھیار سپلائے ہوتے ہیں۔ وہ بھی جنگلاتی لکڑیوں کے کھوکھلے تنوں میں چھپا کر۔ اس دن بڑی ڈیل ہونے والی تھی۔ ان اسمگلروں کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل تھی۔ میں ایک بڑی مچھلی کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے والا تھا۔ تم بھی ٹیم کے اہم ممبروں میں سے ایک تھے۔ میں نے اپنے ممبروں کے ساتھ فیلڈنگ کی تھی۔ جب تم پر حملہ ہوا تو تم خون میں لت پت ہو کر گرے تھے۔ میں نے تحمل کھو دیا۔ میں نے فائرنگ شروع کر دی۔ سب سے پہلے تمہارے حملہ آور کی ریڑھ کی ہڈی پر فائر کیا۔ پھر جو بھی دیکھائی دیا اسے گولیاں چاٹ گئیں۔ میں نے رب کی قسم کھائی تھی کہ اگر حمید مرتا ہے تو مجرموں کو پاتال تک بھی نہیں چھوڑوں گا۔ میں صرف شکار کرتا رہا۔ تمہیں میرے ساتھی اٹھا کر میڈیکل لیب لے گئے۔ ادھر میں شکار کرتا رہا۔ جب ایک ممبر نے خبر دی کہ تم زندہ ہو تو میری بندوق کی نالی خاموش ہوئی۔ حمید- تم کہیں میری کمزوری نہ بن جاؤ فریدی حمید کی طرف دیکھ رہا تھا۔ " جب تک ہارڈ اسٹون جیسا باڈی گارڈ میرے پاس ہے۔ ان شاء ﷲ موت مجھے چھو نہیں سکتی۔ "۔ حمید نے فخر سے کہا۔
جانتے ہو؟ ہتھیاروں کی ڈیلنگ کا سرغنہ کون تھا؟ فریدی نے پوچھا؟ حمید سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ " فاریسٹ آفیسر ارتکاز خان۔ جس کا بھائی ممبر آف پارلیمنٹ ہے۔ "





