عالیہ ناصر نے کیش اور کارڈ کے ذریعہ ہونے والے دن بھر کے کلیکشن کی ساری تفاصیل کمپوٹر میں انٹر کیں اور اسے سی ای او کے ایڈریس پر سینڈ کیا۔ اپنا ایمپلائی کارڈ ہینگر سے لٹکایا اور اپنا آئی کارڈ اپنی تحویل میں لے لیا۔ اتنے میں شام کی شفٹ والی سیلز گرل آئی۔ عالیہ نے اس سے ہاتھ ملایا اور اپنی اسکوٹی پر گھر کےلئے روانہ ہوئی۔ اس وقت سورج ڈھل چکا تھا اس کی نارنجی شعاعیں درختوں کو اپنا آخری سلام کہ رہی تھیں۔ میدانوں کا رنگ اڑنے لگا۔ عالیہ کے موبائیل پر بار بار رنگ ہو رہی رتھی۔ اسنے فٹ پاتھ پر لگ کر اسکوٹی روکی۔ ایک پاؤں فٹ پاتھ پر دوسرا روڈ پر تھا۔ واٹس ایپ جونہی اوپن کیا ساے ایسا جھٹکا لگا کہ اسکوٹی سمیت گرتے گرتے بچی۔ موبائیل اسکرین پر ایک وہیل چیئر کا فوٹو تھا۔ اور اس پر ایک سوالیہ نشان ۔ یہ اسکی ماں کی وہیل چیئر تھی۔ وہ ماں جس سے وہ جان سے ذیادہ پیار کرتی تھی۔ خالی وہیل چیئر کا کیا مطلب؟ ان نون واٹس ایپ نمبر سے سینڈ کیا گیا تھا۔ کیا کوئی دھمکی دے رہا ہے؟ وہ سوچنے لگی۔ خدانخواستہ ماں کو کچھ ہو نہ گیا ہو؟ عالیہ ایک سوپر مارکیٹ میں سیلز گرل کا کام کرتی تھی۔ اس وقت اسکی اہاہج ماں گھر میں اکیلی ہوتی تھی۔ کیچن میں کھانا بنانے کی بعد ماں یا تو ٹی وی میں مصروف رہتی یا پھر موبائیل میں گم رہتی۔اپنی ڈیوٹی سے عالیہ گھر پہنچتی تو دونوں مل کر ڈنر کرتے، چائے پیتے اور باتیں کرتے سو جاتے۔ ماں کی زندگی وہیل چیئر، وہیل چیئر سے بستر، یا پھر صبح کو وہیل چیئر کے کر سبزہ زاروں میں تھوڑا گھوم آتی۔ عالیہ طوفانی رفتار سے گھر پہنچی، دند ناتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی۔ دیکھا تو ماں وہیل چیئر سمیت ڈنر ٹیبل پر موجود تھی۔ اس نے ایک طویل سانس لی۔ ماں نے اسے حیرت سے دیکھا اور بولی "تم سلام کرنا بھول گئی۔ " "یس مام" وہ سلام کر کے مسکرائی۔
صبح اٹھ کر عالیہ نے موبائیل چیک کیا تو کئی فوٹوز اور میسیج تھے۔ پرانا گھر، والدین کی تصاویر، اسکے بچپن کے فوٹوز۔ صاف ظاہر ہوچکا تھا کہ کوئی اسے بلیک میل کر رہا ہے۔ کیا چاہتا ہےوہ؟ اسنے سوچا۔ پھر اس کا خیال اسکے باپ کی طرف گیا۔ وہ اپنا نچلا ہونٹ چبانے لگی۔ اسکا باپ ناصر خان، ایک ریٹائر فوجی۔ حکومت کی طرف سے اسکی خدمات کو جب نظر انداز کیا گیا تو وہ بہت ملول ہوا اور کافی دن ڈپریشن میں رہا۔ جب ڈپریشن سے نکلا تو ایک خطرناک ڈرگز اسمگلر بن گیا۔ ایک انتہائی سفاک اسمگلر۔ دھیرے دھیرے اسکی دہشت پورے شہر میں پھیل گئی۔ ڈیپارٹمنٹ بھی اس سے عاجز آچکا تھا۔ اسکا نیٹ ورک بہت اسٹرانگ تھا۔ پولیس اسکی دھول بھی نہ پاسکی۔ وہ اپنی بچی عالیہ سے بھی ڈرگ سپلائی کرواتا۔ اس کے کسٹمر اس سے راہ چلے پیکٹ وصول کرلیتے جو وہ اپنے اسکول بیگ میں لے جاتی۔ ہر ماہ اس کے گھر پارٹی ہوتی جہاں لوگ رقم ناصر کو کیش کی شکل میں ادا کرتے۔ اگر عالیہ یا اسکی ماں انکار کرتے تو ناصر ان پر بے تحاشہ تشدد کرتا۔ لالچ نے ناصر خان کی فطری محبت کو بھی نکل لیا جو ایک مرد اپنی بیوی اور اولاد سے کرتا ہے۔ ایک دن عالیہ کی ماں ڈٹ گئی کہ معصوم بچی آج سے یہ گندہ کام نہیں کرے گی۔ بظاہر ناصر سر جھکا کر کمرے سے چلا گیا۔ گیراج سے ہتھوڑا اٹھا لایا اور عالیہ کی ماں کی پنڈلیوں پر ایسی ضرب لگائی دونوں ٹانگوں کی ہڈیاں چور ہوگئیں۔ عالیہ بے ہوش ہو کر گرپڑی۔اس طرح وہ مظلوم عورت آج تک وہیل چیئر پر ہے۔ اسکے گھٹنوں سے دونوں ٹانگیں کٹ چکی تھیں۔
تو کیا ناصر خان اس شہر تک آپہنچا؟ عالیہ کو حیرت اور خوف سے چکر آنے لگے۔ اسے آج بھی اچھی طرح یاد ہے ان دنوں ناصر ڈرگز سپلائروں کے ساتھ کئی دنوں کے دورے پر تھا۔ عالیہ موقع جان کر ماں کو لے کر گھر سے فرار ہوگئی۔ اس واقع کو آٹھ سال بیت چکے تھے۔ شب و روز چین سے گزر رہے تھے کہ یہ سانخہ رونما ہوا۔ شام میں ڈیلیوری بوائے نے اسے ایک پیکٹ دیا جس میں ڈرگز تھے۔ فون پر میسیج آیا کہ " ڈئیر ڈاٹر اپنے گزشتہ پیشے میں لوٹ آؤ ورنہ تمہاری ماں کے دونوں ہاتھ ابھی باقی ہیں۔ " عالیہ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ ایک دن کی بات ہے۔ ڈرگز کے پیکٹ سپلائی کر کے عالیہ جونہی سوپر مارکیٹ میں اپنا کاؤنٹر سنبھالا ایک دراز قد، کٹریل اور انتہائی وجیہ جوان کاؤنٹر پر آکھڑا ہوا۔ نہ جانے اس جوان کی آنکھوں میں کیا بات تھی کہ عالیہ کی ریڈھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی۔ وہ بولا " نازیہ حسین نے مجھے تمہاری حفاظت پر مامور کیا ہے۔ وہ کبھی تمہاری طرف سے بے پرواہ نہیں رہیں۔ وہ سارے حالات سے واقف ہیں۔ بس تم شفٹ کے خاتمے پر نیشنل پارک میں ملنا۔ یوں ظاہر کرنا جیسے گھر واپس جا رہی ہو۔ میں سب وے میں تمہیں اچک لوں گا۔ اب یہ ٹوائلٹ سوپ کا پیکٹ مجھے دے کر بل بنا دو۔ تہ کے تم پر نظر رکھنے والے یہ سمجھیں کہ میں کوئی خریدار ہوں۔ " عالیہ نے ہدایت کے مطابق عمل کیا نجانے اسے کیوں اطمینان ہو چکا تھا۔ وہ انتہائی شفیق اور مہربان آدمی تھا۔ وہ جیسے ایا تھا ویسے ہی چل دیا اور وہ میڈم نازیہ حسین ایک آئی ایس آفیسر تھی۔ اسنے عالیہ اور اس کی ماں کو ریلوے پلیٹ فارم پر بے سر وسامانی کی حالت میں پایا تھا۔ اس نے انھیں پہلے پیٹ بھر کھانا کھلایا اور پھر اپنے سرکاری بنگلے پر لے گئی۔ اسنے ان کی ساری روداد سنی اور مدد کا وعدہ کیا۔ تقریباً دونوں سال بھر اسکے ساتھ رہے۔ پھر اچانک نازیہ حسین کا ٹرانسفر ہوگیا۔ ہر ایمان دار سرکاری افسر کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ مگر جاتے جاتے وہ عالیہ اور ماں کا رہائش کا انتظام کر گئی۔ اسکی سفارش پر اسے ایک سوپر مارکیٹ میں جاب بھی ملی۔ عالیہ اگر سوچتی کہ نازیہ حسین جیسے ﷲ کے پسندیدہ بندے جب تک اس زمین پر ہیں قیامت قائم نہیں ہوگی۔
نیشنل پارک میں کڑیل نوجوان نے اسے بتا کہ میڈم نازیہ اکثر پنشمنٹ جاب پر ہوتی ہیں لیکن ان کے تعلقات بھی بڑے وسیع ہیں۔ تمہارے ارد گرد کے لوگ انہیں تمہارے حالات کی خبر دیتے رہتے ہیں۔ انھوں نے ہی مجھے فون کیا تھا اور تمہارا بایو ڈاٹا دیا تھا۔ عالیہ نے مرعوب لہجے میں پوچھا۔ ' کیا میں پوچھ سکتی ہوں آپ کون ہیں؟ جواب ملا " ایک سرکاری آدمی " عالیہ کو یک گونہ اطمینان ہوا۔ مرکاری آدمی نے پھر اسے ہدایت دی " تم پیکٹ سپلائی کرتی رہو۔ میں پورے گینگ کو مع ثبوت کے گرفتار کرنا چاہتا ہوں۔ یقین کرو تم کو اور تمہاری ماں کو خراش تک نہیں آئی گی۔ "
اگلے بیس دنوں تک اسے معلوم نہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ ناصر خان کے بھیجے ہوئے پیکٹ بتلائے ہوئے لوگوں تک پہنچاتی اور اپنا جاب کرتی۔ ایک دن وہ اور اسکی ماں ناشتہ کررہے تھے کہ ٹی وی پر خبریں نشر ہوئیں دونوں مبہوت ہو کر رہ گئیں۔ ناصر خان اور اسکے خاص آدمیوں کو ہتھکڑیاں لگانے کر پولیس وین میں بٹھایا جارہاتھا۔ دوسری صبح جب کال بیل بجی تو جب عالیہ نے دروازہ کھولا تو وہی توانا جوان کھڑا مسکرا رہا تھا اسکے ساتھ ایک سجیلا نوجوان بھی تھا۔ " مس عالیہ کیا آپ میرے ساتھ سرکاری مہمان خانے تشریف لائیں گی؟ کڑیل نوجوان نے انتہائی اخلاق سے پوچھا۔ " ایسی اردو تو مرزا غالب بھی نہیں بولتے ہوں گے۔ " شرارتی نوجوان نے ٹکٹرا لگایا۔ عالیہ کو ہنسی آگئی۔ " تھوڑی دیر پہلے وہ اپنے باپ ناصر خان کے ساتھ کھڑی تھی وہ اسے کینہ توزیع نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ " دنیا کی کوئی بیٹی اپنے باپ کو سرکاری کتوں کو نوالہ نہیں بناتی لعنت ہو تم پر " وہ چینخا عالیہ نے بھی ترکی ترکی جواب دیا ' کوئی باپ اپنی بیٹی کو درندوں کے حوالے نہیں کرتا۔ اور بیوی کے ہیر ہتھوڑوں سے نہیں توڑتا۔ "سجیلے نوجوان نے ٹکٹرا لگایا" بھیگا کر مارا ہے واہ۔ "انھوں نے عالیہ کو گھر تک ڈراپ کیا اور کڑیل جوان نے جب اس کی ہاتھ میں اپنا کارڈ تھمایا تو اسکی آنکھیں حیرت پھیل گئیں۔ کرنل اے۔ اکے فریدی " جاتے جاتے سجیلے نوجوان نے بھی اپنا کارڈ اسکے حوالے کیا تو عالیہ کے لبوں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ "کیپٹن ساجد حمید۔ "


