کرنل فریدی بھی سوالیوں کی قطار میں لگ گیا۔ کافی لمبی قطار تھی گھنٹوں لگ سکتے تھے مگر فریدی صبر کئے کھڑا رہا۔ فقیر بابا برگد کے درخت کے نیچے ایک پتھر پر بیٹھا گانجہ بھرا سگریٹ پی رہا تھا۔ ادھ ننگا اور بدصورت مجزوب۔ لوگ مرادیں لئے آتے دعا کی التجا کرتے وہ گانجے کا دھواں منہ پر مارتا اور ایک کش لگانے کا اشارہ کرتا۔ سوالی بڑی عقیدت سے ایک کش لگاتے، پھر بابا ان کے سروں پر ایک چپت لگاتا، مطلب مراد پوری ہوگی۔ بعض لوگ اسے گانجے والے بابا بھی کہتے تھے۔ ہر وقت وہاں بد عقیدہ لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی۔ کوئی کھانا لا کر دے دیتا تو فقیر بابا مربھگوں کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑتا۔ اس حال میں کہ منہ سے رال بہہ رہی ہوتی۔ وہ اپنی گندی انگلیوں اور میل بھرے ناخنوں سے بڑے بڑے نوالے منہ میں ٹھونستا۔ اس کے ساتھ مرید بھی ہوتا جو لوگوں کے دیے ہوئے پیسے اور فقدی وصول کرتا۔ اس کے ہاتھوں میں ایک چھڑی ہوتی جس سے وہ قطار سیدھی کرواتا اور جو قطار توڑنے کی کوشش کرتا اسے اپنی چھڑی سے ضرب لگاتا۔ بھیڑ زیادہ تر عورتوں کی ہوتی جنہیں اپنی ساس سے یا نند سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوتا یا پھر کسی میاں بیوی کے درمیان طلاق کروانا مقصد ہوتا۔ مردوں میں زیادہ تر کسی کی بیوی ہتھیانا ہوتی تھی ہا مالدار بھائی یا چچا کی موت درکار ہوتی۔ فریدی باریک بینی سے سارے مناظر دیکھ رہا تھا۔ اس دوران فقیر بابا نے کئی بار فریدی پر اچٹتی نظر ڈالی تھی۔ آخر کار فریدی کا نمبر آیا۔ لیکن وہ دوسروں کی طرح دو زانو نہیں بیٹھا۔ کھڑے کھڑے فریاد پیش کی۔ " پیر ومرشد دس سال شادی کو ہوئے اولاد کا سکھ نا ملا۔ کوئی تعویز لکھ دیں فقیر بابا۔ " ملازم اسے بار بار دو زانو ہونے کا اشارہ کر رہا تھا لیکن فریدی نظر کرتا رہا۔ فقیر بابا نے زمین سے ایک چٹکی مٹی اٹھائی فریدی نے بڑی عقیدت سے مٹی لی اور مٹھی میں بند کر لی۔ اور جیب سے بڑی نوٹ نکال کر بابا کے قدموں میں ڈال دی۔
کوئی محکمئہ سراغر سانی کے ٹاپ کے آفیسروں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ آج پانچویں آفسر کی قیمہ بنی لاش کے پاس فریدی اور حمید کھڑے تھے۔ مقتول کا بیڈ روم تھا۔ مقتول انتظار حسین کا بستر خون سے تر تھا۔ ایسا لگتا تھا کسی نے ہڈیوں کو بھی کتر ڈالا تھا۔ حمید کو حیرتوں کے جھٹکے آرہے تھے۔ اس نے ایسی لاش پہلی بار دیکھی تھیں۔ فارنسک ٹیم اپنا کام کررہی تھی۔ فنگر پرنٹ ایکسپرٹ باریک بینی سے کمرے کے ایک ایک انچ کا جائزہ لے رہے تھے۔ فریدی کرائم سین کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ یہ کیس اسے سرکاری طور پر سونپ دیا گیا تھا۔ اوپر سے مسلسل پریشر ڈالا جا رہا تھا کہ کیس جلد حل کیا جائے اور مجرموں کو جلد گرفتار کیا جائے۔ فریدی کو پورا اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کوئی بھی طریقہ اختیار کرے معاملہ ڈپارٹمنٹ کے ٹاپ آفیسروں کے قتل کا تھا۔ میڈیا سے قتل کی یہ واردات چھپائی گئی تھیں۔ مگر بعض خبریں شوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھیں۔ فریدی کے حاسدین کو فریدی کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کا موقع مل گیا تھا۔ ڈنر پر آخر حمید نے بات چھیڑ دی۔ فریدی نے نیپکن سے ہاتھ صاف کیا اور اپنا موبائیل اسکے سامنے ڈالا کر ایک ویڈیو آن کیا۔ یہ ایک سینئر آفیسر کے قتل کا کرائم سین تھا۔ ویڈیو خود فریدی نے بنائی تھی۔ فریدی کہ رہا تھا۔
"دیکھ بیڈ سے ایک موٹی لکیر آتش دان تک گئی ہے۔ قاتل جو بھی تھا جس شکل کا بھی رہا ہو چمنی سے فرار ہوا ہے۔ " حمید بے اعتباری سے فریدی کو دیکھا۔ فریدی نے سر ہلا کر کہا۔ تم ہی کیا کسی کو بھی یقین نہیں آئے گا۔ قاتل کسی کاکروچ کی سائز سے تھوڑا سا ہی بڑا ہوگا۔ یہی سبب ہے کہ پانچوں قتل ایک معمہ بن کر رہ گیا ہے۔ قاتل کہاں سے آیا۔ کدھر سے گیا۔ اور آلئہ قتل کیا ہے محکمہ سوچتا ہی رہ گیا۔ "حمید نے بے چینی سے پہلو بدلا" پہیلیاں مت بوجھائیے۔ کچھ وضاحت بھی کیجئے۔ " جواب میں فریدی تھوڑی دیر خاموش رہا۔ سگار سلگا کر ایک لمبی کش لیا پھر گویا ہوا " میرا انداذہ ہے وہ کوئی روبوٹ ہوگا۔ اے آئی ٹیکنالوجی کا حامل۔ ایک اعلی ترین ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی اس کی میموری میں یہ کام فیڈ کر دیا گیا ہوگا۔ اور ٹارگیٹ بھی دے دیا گیا ہو۔ " حمید نے تھوک نکلا۔ " "مگر وہ چمنی میں گھس کر کہاں گیا ہوگا؟ " "اور چھت پر" فریدی نے جواب دیا۔ " پھر دیوار سے عموداً چلتا ہوا نیچے اتر گیا ہوگا۔ تم نے ویڈیو غور سے نہیں دیکھا۔ اسمیں عمارت کی عقبی دیوار کا بھی ویڈیو ہے خون کی لکیر جو پتلی اور باریک ہوتی ہوئی غائب ہو گئ۔اس کا مطلب اس قاتل کاکروچ کے جسم پر مقتول کا خون جتنا لگا تھا وہ اسکے رینگنے سے دیوار پر لگنے سے ختم ہوگیا۔ "آخر پھر کہاں گیا ہوگا۔ ؟ " حمید نے بے چینی سے پوچھا۔ فریدی جھنجھلا گیا۔ میں عام الغیب نہیں ہوں فرزند۔ بس اتنا کہتا ہوں بہت جلد ایک گرفتاری ہونے والی ہے۔ حمید کے دل ہی دل میں فریدی کی غیر معمولی ذہانت کا قائل ہو چکا تھا۔
حمید رات گئے جب گھر پہنچا تو دیکھا پوری کوٹھی روشن ہے۔ کمپاونڈ بھی روشنی سے جگمگا رہا ہے۔ وہ کار لیے اندر داخل ہوا تو دہل کر رہ گیا۔ رکھوالی کے کتے کمپاونڈ میں قیمہ بنے پڑے تھے۔ زمین کتوں کے خون سے چپچپی ہورہی تھی۔ برآمدے میں نوکروں کی غیر معمولی بھاگ دوڑ تھی۔ حمید کو دیکھ کر بوڑھا نصیر دوڑتا ہو آیا اور بے تابی سے اسکا بازو تھام کر اور فریدی کے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ کہیں فریدی بھی؟ حمید دیوانہ وار زینے طے کرتا ہوا ٹھیک فریدی کے کمرے کے دروازے پر پہنچا اور دیوانہ وار دروازہ پیٹنے لگا۔ سینہ دھونکنی کی طرح پھول اور پچک رہا تھا۔ دروازہ کھلنے میں دیر نہ لگی۔ فریدی سلیپنگ گاؤن میں کھڑا مسکرا رہا تھا۔ حمید نے ایک گہری سانس لی۔ "میں کسی مجرم کے ہاتھوں نہیں مارا جاؤں گا مجھے یقین ہے۔ مجھے اپنے رب پر پورا یقین ہے۔ " فریدی بولا۔ اسنے حمید کو گھسیٹ کر دروازہ بند کر دیا۔ گاؤن کی جیب سے اس نے ایک آہنی کاکروچ نکالا اور ہتھیلی پر رکھ کر حمید کے سامنے کیا۔ یہ گھریلو کاکروچ سے سائز میں تقریباً ڈبل تھا۔ اس کے سر کے پاس دو دھاردار بلیڈ لگے تھے جو استرے سے بی تیز تھے۔ فریدی کہ رہا تھا۔ " یہ وہ خطرناک قسم کا روبوٹ کاکروچ ہے جو اے آئی ٹیکنالوجی پر تخلیق کیا گیا ہے۔ ذرا سی غفلت برتتا تو آج میں بھی قیمے میں تبدیل ہوچکا ہوتا۔ کتوں کے بھوکے کی آوازوں سے میری آنکھ کھلی۔ کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کتے اچھل اچھل کر کاکروچ پر حملہ کر رہے تھے۔ یہ جسے پکڑتا نہ چھوڑتا اپنے کٹر سے ان کے ٹکڑے کر ڈالتا۔ تمام مناظر میں نے شوٹ کر لیئے ہیں۔ یہ سب اتنی سرعت سے ہورہا تھا کہ آنکھوں کو یقین کرنا مشکل تھا۔ یقیناً یہ بم پروف اور فائر گروف بھی تھا۔ سارے کتے مر گئے سارے ملازم گھبرا کر اپنے اپنے کواٹرز میں بند ہو گئے۔ کاکروچ پھر میرے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔ میں نے حواس بحال رکھے اور اسکے استقبال کیلئے تیار ہوگیا۔ میں نے اسے بڑی آسانی سے ناکارہ کردیا۔ "کیسے؟ " حمید نے بے تابی سے پوچھا۔ فریدی نے اسے ایک ریوالور بتایا۔ حمید اس ریوالور کو پہچان گیا فریدی کہ رہا تھا۔ تمہیں "جہنم کے شعلے " کا پش فائر کا ہتھیار یاد ہے؟ جس سے آگ کی ایک لکیر نکلتی تھی، جس پر پڑتی وہ کوئلہ بن جاتا ؟ اس کو میں نے موڈیفائی کر کے ایک ریوالور کی شکل دی ہے۔ میں نے اس میں لیزر کامبینیشن بھی جوڑا دیا۔ اسکا ایک فائر بڑے سے بڑے روبوٹ کو جام کرسکتا ہے۔ میں نے پوری تیاری کر لی تھی۔ میں جانتا تھا اب اگللا نمبر میرا ہے۔ "
تھوڑی دیر میں فریدی کی کوٹھی محکمہ سراغرسانی کے آفیسروں سے بھر گئی۔ فریدی رپورٹ پیش کررہا تھا۔ "زیرولینڈ کے ایجنٹ ایک بار پھر سر گرم ہوگئے ہیں۔ میرے ہاتھوں زیرولینڈ کے کئی اہم ایجنٹ گرفتار ہوئے آج جیلوں میں بند ہیں۔ یہ ان کی رہائی کی کوشش بھی ہے اور انتقام بھی۔ آج ایک اہم ایجنٹ "فقیر بابا پیرومرشد " کی گرفتاری ہوئی ہے جو خود بھی زیرولینڈ کا مقامی ایجنٹ تھا۔ جب میں اس سے ملنے گیا تو چیتھڑوں میں ملبوس اس فقیر کی کمر میں اڑسے ہوئے آئی فون کا ایک کونا نظر آگیا تھا میرا شک یقین میں بدل گیا دراصل یہ بابا پانچوں مقتول کے بنگلے کے ارد گرد اسپائی کیمرے میں دکھائی دیا۔ کاکروچ وہی چھوڑتا تھا کاکروچ میں پورا پروگرام فیڈ ہوتا تھا۔ وہ کیمروں سے لیس تھا۔ بہت جلد میں ابھی اور بھی چہروں سے نقاب اٹھاؤں گا۔ "




