آداب،
دوستو!
تقریبا دس برسوں بعد قومی کونسل برائے فروغِ اُردو زبان کے زیراہتمام ممبئی میں 6 تا 14جنوری اردو کتاب میلہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ انجمن اسلام، ممبئی کے اشتراک سے منعقد ہونے والا اردو کتاب میلہ اس بار قلب شہر باندرہ کرلا کامپلیکس میں سجایا جائے گا۔ ممبئی کے فراخ دل محبان اور عاشقان اردو سے کچھ ضروری باتیں گوش گزار کرنا چاہوں گا۔
١- کتاب میلے کی کامیابی کا دارو مدار کتابوں کی زیادہ سے زیادہ خریداری پر ہے۔ ممبئی نے ہمیشہ اس معاملے میں دیگر علاقوں سے بازی ماری ہے۔
٢- نوٹ بندی، لاک ڈاؤن کے بعد کھلی فضا اور قدر بہتر ماحول میں کتاب میلہ وہ بھی ممبئی میں ہورہاہے، یہ سن کر ملک بھر کے کتب فروش اور ناشرین ممبئی آنے کے لیے بہترین نئی کتابیں اور پرانی بیسٹ سیلر کتابوں سمیت بہت سی تیاریاں کر رہے ہیں۔ تقریباً دو سو اسٹال بک ہو چکے ہیں۔ ان کتب فروشوں کی توقعات ممبئی والوں سے کچھ زیادہ ہی ہیں۔ اس لیے ممبئی والوں کی ذمہ داریاں کچھ زیادہ بڑھ گئی ہیں۔
٣- ہر فرد کوشش کرے کہ کم از کم دو ہزار روپوں کی کتابیں خریدے۔ والدین اپنے بچوں کو اور اساتذہ اپنے طلبہ کو آج ہی سے کتابوں کی خریداری کے لیے کچھ رقم پس انداز کرنے کی ترغیب دیں۔
٤- پہلی سے چوتھی جماعتوں کے طلبہ کم از کم ٢٠٠ روپے، پانچویں سے آٹھویں کے طلبہ ٥٠٠ روپے، نویں سے ڈگری کالجز کے طلبہ ١٠٠٠ روپے، اساتذہ ٢٠٠٠ روپے، ہیڈماسٹرس/پرنسپلس ٣٠٠٠ روپے کی کتابیں خریدنے کا منصوبہ بنائیں۔ اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے ٥٠٠٠، کالجوں کی لائبریریوں کے لیے کم از کم ١٠٠٠٠ کا بجٹ مختص کریں۔
٥- والدین اپنے بچوں کے ساتھ اور اساتذہ اپنے طلبہ کے ساتھ *کتابوں کی سیر* کے لیے کوئی ایک دن مقرر کرلیں۔ مناسب ہوگا آپ اپنے آنے کی پیشگی اطلاع کتاب میلے کے ذمّے داران کو بھی دیں۔
٦- ہر اسکول میں پی ٹی اے کو متحرک کریں۔ پی ٹی اے ممبران کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنائیں۔
٧- ماہنامہ گل بوٹے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ آپ کے استقبال کے لیے موجود رہے گی۔ ان شاء اللہ
امید ہے کہ اس موقع کا فائدہ ہر اردو والا اٹھانے کی کوشش کرے گا۔
