آکولہ کی فعال ودربھ اقلیتی تعلیمی تنظیم کے صدر محمد فاروق غلام غوث نے دو دن پہلے اقلیتی اداروں میں اسسٹنٹ اساتذہ کی تقرری کے لیے ٹی ای ٹی سرٹیفکیٹ کی شرط میں نرمی کا مطالبہ کیا تھا۔ معلوم رہے کہ شمس الدین مسعود اور انصاری یاسمین نسیم احمد جو کہ معاون معلمین ہیں، انہوں نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔
پٹیشن نمبر 6895/2023 کے مطابق، عدالت نے اساتذہ کے حق میں فیصلہ سنایا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ TET اقلیتی اسکول کے اساتذہ پر لاگو نہیں ہے۔
اس فیصلے کا اطلاق تمام اقلیتی اداروں میں ہوں ،
اس ضمن میں علاقہ ودربھ کی مشہور و معروف تعلیمی شخصیت ودربھ الپسنکیاک شکشا سنستھا کے صدر محمد فاروق غلام غوث نے کوشش کی متعلقہ افسران سے ملاقات کی ۔
اقلیتی اداروں کے لئے فائدے اس فیصلے کے لئے وہ بذات خود اقلیتی کمیشن سے رجوع ہوئے انہیں میمورنڈم دیکر اسے تمام اقلیتی اداروں کے لئے نافذ کرنے کے لیے محکمہ تعلیم کے حکم نامہ (جی ، ار) نکالنے کا مطالبہ کیا ۔ محمد فاروق کی کوشش کامیاب رہی ۔ کمیشن نے فوری کاروائی کرتے ہوئے ، ٹی ای ٹی سرٹیفکیٹ کے بارے میں بامبے کورٹ کے ذریعہ دیے گئے فیصلے پر غور کرکے محکمہ تعلیم کے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ اس سلسلے میں حکومتی فیصلے کا اعلان کرنے کی کارروائی فوری طور پر اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کی جائے اور چونکہ متعلقہ معاملہ اقلیتی ادارے سے متعلق ہے اور اقلیتی کمیشن اس معاملے کا نوٹس لینے کا حقدار ہے۔
اس معاملے میں ایکشن لے اور 15 دن کے اندر کمیشن کو اپنی خود وضاحتی رپورٹ پیش کرے۔
محمد فاروق کی اس کوشش سے اقلیتی اداروں میں انکے اس کام کی ستائش کی جارہی ہے ۔ واضح رہے کہ اقلیتی اداروں بلخصوص اردو اداروں کے تعلق سے محمد فاروق کی خدمات قابل ستائش ہے موصوف نے انفرادی طور پر کئی تعلیمی اداروں اور ملازمین کی رہنمائی کرکے انکے مسائل کو حل کیا ، وہ خود اپنی ذات میں ایک سنگھٹنا ہے ،






