کھام گاؤں:2/دسمبر (واثق نوید ) ریاست کے مسلم سماج کے طلباء اور نوجوانوں کی تعلیمی ، اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے قومی دھارے شامل کرنے کے لیے حکومت دیگر سماج کی طرز پر مسلمانوں کے لیے بھی ایک خود مختار ادارہ مولانا آزاد ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کریں ،
اس ضمن میں یکم دسمبر کو ضلع کلکٹر آفس کے سامنے یک روزہ احتجاج کیا گیا ۔ جس میں ضلع بھر سے سماجی ، سیاسی ، شخصیتوں نے شرکت کی ۔ واضح رہے کہ ریاست مہاراشٹر میں مختلف سماجوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف خود مختار ادارے ، بارٹی، سارتھی ، مہاجیوتی اور امرت جیسے خود مختار ادارے حکومت کے مالی تعاون سے جاری ہے ۔
ان اداروں کے لئے ریاستی بجٹ میں بڑی رقم محفوظ کی جاتی ہے ۔ مسلم سماج کے فلاح و بہبود کے لیے اسی طرز پر ایک خود مختار ادارہ مارٹی قائم کیا جائے اس ضمن میں ضلع کے مقام پر مسلمانوں کے سرکردہ سیاسی و سماجی رہنماؤں نے ایک روزہ دھرنہ دیا اور آخر میں وزیر اعلیٰ مہاراشٹر کے نام ایک میمورنڈم ضلع کلکٹر کے معرفت بھیجا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 7 دسمبر سے ناگپور میں منعقد ہونے والے ریاستی حکومت کے سرمائی اجلاس میں مارٹی نام سے ایک خود مختار ادارہ کے قیام کا اعلان کیا جائے ۔
ایڈوکیٹ وسیم قریشی ، الحاج مزمل علی خان ، بابو جمعدار ، محمد سفیان ،ڈاکٹر انیس ، غضنفر خان ، ذاکر قریشی ، طارق ندیم ، معین قاضی ، رضوان سوداگر ، ڈاکٹر غفران ، سمیت مسلم سماج کے سیاسی ، سماجی رہنما و کارکنان کثیر تعداد میں موجود تھے ۔






