خاکسار کی مرتب کردہ دستاویزی کتاب ’مولانا محمدعلی جوہر:آنکھوں دیکھی باتیں‘ کا جدید ایڈیشن کل مولانا کے یوم پیدائش(10 دسمبر)کے موقع پر منظرعام پر آرہا ہے۔ مولانا کے آخری دور کے ساتھی محمد عبدالملک جامعی کی یادداشتوں پر مبنی اس کتاب کے نئے ایڈیشن میں علی برادران، بی اماں اور ان کے دیگر اہل خانہ کی ایسی نادر ونایاب تصویریں شامل کی گئی ہیں جو اس سے قبل کسی کتاب میں شائع نہیں ہوئیں.
232 صفحات کی یہ کتاب مولانا محمدعلی جوہر کی زندگی کے ایسے گوشوں سے پردہ اٹھاتی ہے جو اب تک پردہ خفا میں تھے۔اس کتاب کے بارے میں معروف اسکالر اور مولانا محمدعلی جوہر کے قریبی رشتے دار ڈاکٹر ظہیر علی صدیقی کا کہنا ہے کہ ”میں نے اب تک مولانا محمدعلی جوہر پر جو سینکڑوں کتابیں پڑھی ہیں، ان میں یہ سب سے منفرد اور یکتا کتاب ہے۔“
اس کتاب میں مولانا محمدعلی جوہر کی اس معرکۃ الآراء تقریر کا اردو ترجمہ بھی شامل ہے، جو انھوں نے اپنے انتقال سے چند روزقبل لندن کی گول میز کانفرنس میں کی تھی۔ اس کتاب میں مولانامحمدعلی جوہر سے متعلق وہ تمام باتیں آگئی ہیں جو مصنف نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔
یہ سارا مواد عرصے سے مدینہ منورہ میں رکھا ہوا تھا،
جہاں محمدعبدالملک جامعی آزادی سے قبل ہجرت کرکے تشریف لےگئے تھے۔ خاکسار نے اس قیمتی مواد کو وہاں سے حاصل کرکے ایک کتاب کی صورت میں مرتب کیا ہے جس نے تاریخی دستاویز کی شکل اختیار کرلی ہے۔
کتاب حاصل کرنے کے خواہش مند اس نمبر پر رابطہ کرسکتے ہیں (رابطہ نمبر9810780563)






