وہ آٹھواں دن تھا جب ریکھا کو یہ محسوس ہوا کہ کوئی اسے فالو کر رہا ہے۔ لیکن اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ وہ کافی پی کر ایک کیفے سے نکل رہی تھی۔ وہ جینز اور سورخ رنگ کی ٹی شرٹ میں ملبوس تھی۔ ویسے بھی وہ کافی گوری چٹی تھی اور اس پر میک اپ نے اسے کافی حسین بنا دیا تھا۔ جب وہ اپنی ایکٹیوا پر بیٹھ رہی تھی تو اس نے اپنے عقب میں ٹو وہیلر اسٹارٹ ہونے کی آواز سنی۔ وہ دھیمی رفتار سے چل پڑی۔ اسنے جب عقبی شیشے میں نظر ڈالی تو حیرت ذدہ رہ گئی۔ وہ جو کوئی بھی تھا کافی زیرک تھا وہ اپنی ٹو وہیلر لہراتا ہوا چل رہا تھا اس کا عکس بس لمحے بھر کیلئے نظر آتا پھر غائب ہوجاتا۔ ریکھا کا دل ذور ذور سے دھڑکنے لگا۔ وہ سوچنے لگی کہ قاسم نے موبائیل کا ٹریکر آن ہوا ہوگا کہ نہیں؟ کیا قاسم میرے اطراف ہوگا؟ یہ شہر کا کمرشیل ایئریا تھا جہاں شاپنگ مال، ڈپارٹمنٹل اسٹور اور گاڑیوں کے شو رومز تھے۔ ذیادہ تر لڑکیاں یہیں سے غائب ہوئی تھیں۔ جن کی لاشیں جھاڑیوں میں، گٹروں کے مین ہولز میں یا کسی جوہڑ میں ملی تھیں وہ بھی اس حالت میں کہ ان کی پیٹوں، شانوں اور بازوں پر بلیٹ کی مار کے نیلگوں نشانات ملے رتھے۔ اور گلا دھاردار ہتھیار سے کاٹ دیا گیا تھا۔ زیادہ تر لڑکیاں کالج اسٹوڈینس یا ملازم پیشہ تھیں۔ کرنل فریدی کا خیال تھا کہ قاتل اسے ایئرے کے آس پاس کا مکیں ہے۔ ریکھا نے درخواست کر کے یہ کیس فریدی سے مانگ لیا تھا کہ اپنی قابلیت ثابت کر سکے خاص طور سے کیپٹن حمید کو بتا سکے کہ وہ بھی کارنامہ انجام دے سکتی ہے۔ اسنے خاص طور سے حمید کو اس کی ہوا بھی نہ لگنے دی۔ نا جانے اسے کیا سوجھی کہ اسنے قاسم کو بھی ٹیم کا حصہ بنالیا۔ اس نے قاسم کو کیس کی نوعیت بتائی اور مدد کی درخواست کی۔ قاسم کی "ہی ہی" بند ہی نہیں ہو رہی تھی۔ قاسم کو بس ریکھا پر نظر رکھنی تھی کسی بھی حالت میں ریکھا کا سراغ نہ کھوئے۔ اپنے فون پر جی، پی، ایس آن رکھنا تھا۔ قاسم نے بس اتنا کہا تھا انسپکٹر یس صاحبہ وہ سالے حمید کو اسکی بھنک بھی نہ ملے ورنہ وہ سب مٹی پلید کردے گا وہ سالا خود پلید "ریکھا مسکرانے لگی تھی۔
ریکھا نے فالو کرنے والی کی ایک جھلک دیکھ ہی لی۔ وہ ایک ٹین ایجر تھا۔ اسے حیرت ہوئی۔ ریکھا نے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور سے بلا وجہ کیڈبری خریدی۔ جب وہ ایکٹیوا پر بیٹھ رہی تھی تو اچانک کوئی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا اور سرگوشی میں بولا " ریکھا نے اپنی کمر پر لوہے کا دباؤ محسوس کیا۔ "تمہاری ایک غلطی تمہاری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کا سب بن سکتی ہے" اس نے ہاتھ بڑھا کر ریکھا کی جیب سے ریوالور اور موبائیل نکال لیا۔ "اوہ! تو ڈارلنگ ٹریکر آن ہے؟ " وہ ہنسا "بہت خوب دیکھتے ہیں کون بچانے آئے گا"۔ کہیں تم پولیس والی تو نہیں؟ لیکن اتنی کم عمری میں پولیس کی نوکری نہیں ملتی " ریوالور ہٹالو میں تعاون کروں گی۔ "وہ ہنسا ریکھا کے سر پر موت ناچ رہی تھی۔ سوچنے لگی قاسم آس پاس میں ہوگا کے نہیں؟ کیا بغیر موبائیل کے وہ میرا سراغ لگا پائے گا۔ اسے ٹھنڈے پسینے چھوٹنے لگے۔ اسے افسوس ہو رہا تھا کہ محکمے کے کسی تربیت یافتہ آدمی کو ساتھ میں لینا چاہیے تھا۔ اسے تو صرف حمید کو جلانا تھا قاسم جیسے گھامڑ سے مدد نہیں مانگی تھی۔ گھنی جھاڑیوں کے قریب اسے ٹو وہیلر روکنے کو کہا گیا۔ جب وہ پلٹی تو اسے پتا چلا کہ وہ ایک گندے نالے کے قریب کھڑی ہے۔ لڑکا بھی دلیری سے اسکے سامنے آگیا۔ وہ پندرہ سولہ برس کا لڑاکا تھا سر کے بال چھوٹے اور کان بڑے تھے۔ یہ سفاکی کی نشانی ہوتے ہیں۔ وہ مکارانہ انداز میں مسکرا رہا تھا۔ ریوالور کی بجائے اسکے ہاتھوں میں کھلا ہوا استرا تھا۔ "میں آتشی اسلحہ نہیں رکھتا"۔ وہ ہنس کر بولا۔ "اس سے میں خوبصورت لڑکیوں کے ہونٹ، ناک، کان کاٹتا ہوں اور گلے پر پھیرتا ہوں"۔ ریکھا کپکپا کر رہ گئی۔ لڑکے نے لات مار کر ایکٹیوا نالے میں گرادی۔ اور اسے گھنی جھاڑیوں میں جانے کا اشارہ کیا۔ ریکھا دل میں دعائیں کررہی تھی کہ اس سنسان علاقے سے کوئی تو گزرے جس سے مدد طلب کر سکے۔ کئی ایک سواریاں گزری بھی مگر انہیں جوڑا سمبھ کر گزر گئے۔ وہ اسی حالت میں گھنی جھاڑیوں کے سلسلے میں گئی کہ استرے کی دھار گردن سے ٹکی ہوئیں تھی۔ وہ قاسم دل ہی دل میں بددعائیں دے رہی تھی۔ جب جھاڑیوں کے بیچوں بیچ پہنچ گئی تو لڑکے نے اپنی کمر سے بیلٹ کھینچا اور ریکھا پر برسانے لگا۔ ریکھا بڑی صفائی سے ہر وار بچا رہی تھی وہ تربیت یافتہ جو تھی۔ کتیا! وہ دانت کچکچا کر بولا "اب اپنی جگہ سے ہلی بھی تو گولی بھیجہ چاٹ جائے گی۔ ریکھا کا ریوالور اس کے ہاتھ میں تھا۔ پھر اسے اپنی پیٹھ، کمر بازوں اور شانوں پر بیلٹ کی مار سہنی پڑی۔ ہر زرب ر اسکے منہ سے چینخ نکل جاتی۔ ریکھا کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
اچانک دھپ دھپ کی آوازیں آئیں۔ کوئی دیو دوڑتا ہوا آرہا تھا۔ "ابے سالے کھبیس کی اولاد" دیو نے دہاڑ کر کہا۔ اس سے پہلے لڑکا ریوالور یا استرے کا استعمال کرتا دیو کا صرف ایک طمانچہ اسے پھرکی کی طرح گھومنے پر مجبور کردیا۔ یہ قاسم تھا۔ اسنے لڑکے کا گریبان پکڑ کر تابڑ توڑ کئی تمانچے رسید کئے۔ لڑکا بے ہوش ہو کر قاسم کہ بانہوں میں جھول گیا۔ ریکھا دیوانے کی طرح چلانے لگی۔ "قاسم بھائی ذندہ باد۔ قاسم بھائی ذندہ باد" قاسم اسے گھورنے لگا۔ ارے بھائی مت بولو۔ "ریکھا نے فوراً نعرہ بدل دیا۔ قاسم سیٹھ ذندہ باد" قاسم منہ دبا کر کھی کھی کرنے لگا۔ دوسرے دن آفس میں ریکھا نے رپورٹ پیش کی۔ اس کے ساتھ قاسم بھی تھا۔ اسے میں نے گرفتار کیا ہے۔ ریکھا فخر سے بولی "یہ ایک جوکھم بھرا کام تھا۔ میں نے قاسم صاحب کی مدد لی تھی۔ قاسم نے سر ہلا کر کہا " اور کیا" اتنے میں کیپٹن حمید داخل ہوا" خالہ جان یہ کوئی کارنامہ تھوڑی ہی ہے۔ " بس سیدھا کیس تھا۔ " تم چپ رہو قاسم نے اسے ڈانٹا۔ جواب میں حمید نے مسکرا کر کہا "خالہ جان تم بہت بھولی ہو کرنل صاحب تم پر نظر رکھ رہے تھے۔ " ریکھا نے چونک کر فریدی کی طرف دیکھا۔ وہ پرسکون بیٹھا تھا۔ "اب سنو" فریدی سگار سلگاتا ہوا بولا ' مجرم جیرالڑ اسٹانو " پیدائش سنکی ہے۔ اسکی ایک وجہ بھی ہے۔ اسنے اپنی سگی بہن کو غلط طریقے سے چھوا۔ اسکے باپ نے اسے کرسی سے باندھ کر بیلٹ سے اسکی دھلائی کردی۔ پھر یہ روز کا معمول بن گیا۔ جیرالڑ بہن پر مجرمانہ حملہ کرتا اور باپ اسے بیلٹ سے مارتا۔ پھر اسے مار کھانے میں لذت ملنے لگی۔ باپ نے اسے گھر سے نکال دیا۔ اسی رات اسنے گھر میں گھس کر بہن کا گلا استرے سے کاٹ دیا۔ اور گھر سے فرار ہو گیا۔ ویسے وہ نارمل ذندگی گزارتا ہے۔ جب سنک سوار ہوتی ہے تو شکار کرنے نکل جاتا ہے۔ وہ بھی ایک مال میں سیلزمین کا کام کرتا ہے۔ میں سال بھر سے اسکی تلاش میں تھا۔ "
"سمجھیں خالہ جان؟ " حمید نے آنکھیں نچا کر کہا۔ "مگرمچھ کو پکڑنے کیلئے تمہیں مچھلی بنایا گیا تھا۔ " اگر اب تم نے مجھے خالہ جان کہا تو میں تمہارے منہ میں موبائیل گھسیڑ دوں گی۔ "ریکھا ہسٹیریائی انداز میں چینخی۔ " حمید قہقہے لگانے لگا اور قاسم ہونق بنا پیٹھا تھا۔




