مالیگاؤں(خیال اثر مالیگانوی) شہر میں بیٹری والی گاڑیوں کا کاروبار کرنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے انٹر نیشنل ہیومن رائٹس کے صدر حضرت صابر نورانی (مدنی دربار) نے کہا کہ برسوں قبل چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے کھلونا نما تین پہیہ سائیکلیں مالیگاؤں سے ایجاد ہو کر سارے ملک میں پھیل گئی تھیں جسے کم عمر بچے انتہائی تیز رفتاری سے بھیڑ سے اٹے ہوئے مجمع میں کسی راکٹ کی طرح دوڑا دیا کرتے تھے.
بے شمار بچے اور راہگیر ان کی ٹکڑ سے مجروح ہو کر اپاہج ہونے کے دہانوں تک پہنچ گئے تھے. آج بھلے ہی ایسی سائیکلوں کا وجود ختم ہو گیا ہو لیکن حالیہ دنوں بیٹری سے چلنے والی ایسی دو پہیہ اسکوٹر نما سائیکلیں شہر کے گلیاروں میں پرندوں کی طرح دوڑتی بھاگتی اس طرح پرواز کررہی ہیں جیسے "غنیم آسمانوں میں دشمن جہازوں کی سرگوشیاں ہیں " یہ اسکوٹر نما سائیکلیں بھلے ہی چند افراد کے لیے منافع بخش کاروبار ہو سکتی ہیں لیکن انھیں کرایے پر لے کر چلانے والے وہ کمسن بچے جو ابھی بلوغیت کی حدوں تک بھی نہ پہنچے ہیں روز بروز یا تو خود حادثوں کا شکار ہورہے ہیں یا پھر راہگیروں کو اس طرح مجروح کرنے پر آمادہ ہیں کہ ان کی جان پر بن آئے.
مسلسل کئی ہفتوں سے کرایے پر یہ گاڑیاں فراہم کرنے والے افراد کے خلاف آوازیں بلند ہورہی ہیں تو نا سمجھ اور معصوم بچوں کو بھی اس لئے ہدف و ملامت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اول تو وہ اپنی خود کی جان سے کھیل رہے ہیں دوم یہ کہ خواتین بچوں اور ضعیف العمر افراد کو بھی نقصان پہنچایا جارہا ہے. محکمہ پولیس کو چاہیے کہ وہ پہلی فرصت میں بیٹری والی ان اسکوٹروں کو کرایے پر فراہم کرنے والے افراد کو پابند کرے کہ وہ کم عمر بچوں کے بر خلاف صرف اور صرف بڑی عمر کے بچوں کو ہی یہ اسکوٹر نما سائیکلیں فراہم کریں.
بچوں کے والدین کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے لخت جگر کی فرمائشوں پر نہ صرف اپنے بچوں بلکہ راستہ عبور کرنے والے مرد و خواتین اور بچوں کی جان خطروں میں ڈالنے کو سبب نہ بنیں. اگر حادثوں کی یہی تعداد رہی تو گلیوں گلیوں میں مجروحین کی قطار در قطار دکھائی دے گی بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بوڑھے باپ کے کاندھوں پر ان معصوم بچوں کا جنازہ دھرا ہو جنھیں کل بڑھاپے کا سہارا ہونا تھا.
