مالیگاؤں ۔قاضیِ اہلسنت حضرت مفتی واجد علی یار علوی صاحب کی سرپرستی اور حاجی ریاض احمد اشرفی و ماسٹر قربان احمد صاحبان کی نگرانی میں قلبِ شہر نیا اسلام پورہ میں جاری مدرسہ اہلسنت انوارِ صوفیہ کے طلبہ کا تیسرا سالانہ جلسۂ عام بعنوان تکمیلِ ناظرہ قرآنِ کریم ، مظاہرہ ، مسابقہ و تقسیمِ انعامات کا انعقاد 23 فروری 2025ء بروز اتوار کو بعد نمازِ عصر فوراً مسجد اہلسنت انوارِ صوفیہ میں ہوا ۔
پہلی نشست مظاہرۂ دینیات (نصابِ تعلیم) و مظاہرۂ نوری قاعدہ کا آغاز بعد نمازِ عصر فوراً حاجی خلیل احمد صاحب (پھنی والے) کی صدارت میں مدرسہ ھٰذا کے طلبہ کی تلاوتِ قرآنِ کریم اور نعت شریف سے ہوا ۔ بعد ازاں یکے بعد دیگرے طلبہ نے کلمہ ، دعائیں ، احادیث اور نوری قاعدہ کی مثالیں نیز آیاتِ قرآنیہ سنا کر اپنی تعلیمی کارکردگیوں کا شاندار مظاہرہ پیش کیا ۔ نمازِ مغرب کی ادائیگی کے فوراً بعد دوسری نشست مظاہرۂ عمّ پارہ و ناظرہ قرآنِ کریم اور مسابقۂ نوری قاعدہ مع اجراء و قواعد کا آغاز طلبہ نے تلاوتِ قرآنِ مجید و حمد کے ذریعے فرید علی انجینئر صاحب کی صدارت میں کیا ۔
بعدہٗ طلبہ نے مظاہرۂ عمّ پارہ و ناظرہ قرآنِ کریم پیش کیا نیز کُل بارہ امیدواران کے مابین مسابقۂ نوری قاعدہ مع اجراء و قواعد بہت ہی شاندار اور دلچسپ و مقابلہ آراء رہا ۔ بعد نمازِ عشاء تیسری اور خصوصی نشست مسابقۂ عمّ پارہ حفظ کا آغاز مومن محمد مدثر محمد یاسین کی تلاوتِ قرآن مجید سے مخیرِ قوم و ملت ڈاکٹر حامد اقبال صاحب کی صدارت میں ہوا ۔ محمد حسان محمد مصطفٰے نامی طالبِ علم نے نعتِ سرورِ کونین ﷺ سے سامعین کو محظوظ کیا ۔ بعدہٗ قرعہ اندازی کے ذریعہ مسابقۂ عمّ پارہ حفظ میں شریک مدرسہ ھٰذا کے ہی کُل 9 امیدوار طلبہ نے تجوید و قواعد کی رعایت کے ساتھ بہترین لب و لہجہ میں پارۂ عمّ کی تلاوت کرکے ماحول کو کیف آور بنا دیا اور سامعین کے دل جیت لیے ۔
حافظ شاہد اختر اشرفی صاحب (امام مسجد اکبر اشرفی) اور حافظ اُسامہ ضیائی صاحب (امام مسجد گلشن امام احمد رضا) نے حَکم کے فرائض انجام دیے ۔
مولانا احمد رضا ازہری صاحب نے خصوصی خطاب میں علمِ دین کی اہمیت و افادیت اور قرآنِ کریم سیکھنے سکھانے کے فضائل قرآن و حدیث کی روشنی میں اجاگر فرمائے ۔ موصوف نے جہاں طلبہ و اساتذہ کی حوصلہ افزائی فرمائی وہیں ذمہ داران و منتظمینِ مدرسہ کے اس اقدام کی بھی سراہنا کی ۔ ناظمِ اعلیٰ مدرسہ شفاعۃ القرآن حافظ غفران اشرفی صاحب نے پروگرام سے متعلق بہترین تاثرات پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ موبائل اور انٹرنیٹ کے اِس پُر فتن دور میں سرپرست حضرات نے اپنے بچوں کو دین و قرآن سے جوڑنے کے لیے جو وقت مدرسہ میں دیا وہ قابلِ ستائش ہے اُن کی یہ قربانیاں مستقبل میں طلبہ کے لیے کافی کارآمد ثابت ہوں گی۔
نیز موصوف نے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مکاتب کے لیے مساجد کے دروازے کھولے جائیں ۔ ذمہ دارانِ مسجد طلبہ و اساتذہ کا تعاون کریں اور مکاتب و مدارس میں ایسے پروگرامات کا انعقاد کرتے رہیں ۔ سالانہ امتحان اور مسابقات میں کامیاب طلبہ کو علماء ، حفاظ و آئمۂ مساجد نیز مصلیانِ مسجد اور سرپرست حضرات کے ہاتھوں انعامات سے نوازا گیا ساتھ ہی مظاہرہ و مسابقہ میں شریک تمام ہی طلبہ کی بھی تشجیعی و اعزازی انعامات کے ذریعے حوصلہ افزائی کی گئی ۔
ناظمِ جلسہ صدرالمدرس حافظ عمیر اشرف نے مدرسہ کی تین سالہ کارکردگی بیان کی ۔ پروگرام کی کامیابی میں معلمينِ مدرسہ مولانا شاہد رضا ، حافظ مدثر حسین ، مولانا مبین رضا ، حافظ محمد رضا اور حافظ تجمل حسین صاحبان نے کافی تگ و دَو کی ۔ نیز منتظمینِ مدرسہ مشرف حسین (بابو مقادم) ، ماجد اختر ، اشرف بھائی ، شیخ آصف بھائی نے اہم کردار ادا کیا ۔ صلوٰۃ و سلام ، دعا اور رسمِ شکریہ کے ساتھ پروگرام بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا ۔
شعبۂ نشر و اشاعت مدرسہ اہلسنت انوارِ صوفیہ (نیا اسلام پورہ) ، مالیگاؤں

