کھام گاؤں(واثق نوید) ہر سال کی طرح اس سال بھی جمعیت القرش کی جانب سے ۲۲ویں اجتماعی شادیوں کا انعقاد انتہائی وقار اور سادگی کے
ساتھ کیا گیا۔
اس بار یہ تقریب لالکھڑی کے عفان ہال میں منعقد ہوئی ، جہاں ۲۱ جوڑے نکاح کے مقدس بندھن میں بندھے۔ اس موقع پر امراوتی کی رکن اسمبلی سلبھا کھڑکے، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے نائب صدر سنجے کھڑکے ، رگھو ناتھ دادا پاٹل، شیواجی نند کھلے، ایوب قریشی (سولہ پور)، ایڈوکیٹ مجید قریشی، ڈاکٹر علیم پٹیل اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا، اس کے بعد معروف عالم مفتی فیروز نے نکاح پڑھایا، اور مولانا یونس نے دعا کرائی۔ تقریب میں ریاست بھر سے جوڑے اور ان کے اہل خانہ شریک ہوئے ۔ پورا ماحول اتحاد، سادگی اور خوشی سے بھرپور نظر آیا۔ فضول خرچی کے خلاف جمعیت کا پیغام ، جمعیتالقرش کے شہر صدر آغاز چودھری نے اس موقع پر کہا ،اجتماعی شادی کا مقصد نکاح کو آسان بنانا اور غیر ضروری اخراجات کو روکنا ہے۔ ہمارا یہ اقدام ان خاندانوں کی مدد کے لیے ہے جو شادی کے اخراجات کے باعث پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں۔
یہ پروگرام سماج میں سادگی اور باہمی تعاون کا ایک بہترین نمونہ
پیش کرتا ہے۔
ایم ایل اے سلبھا کھڈکے نے جمعیتالقرش کی خدمات کو سراہا ،
اجتماعی شادی کانفرنس کے دورانرکن اسمبلی سلبھا کھڈکے مہمانِ خصوصی کے طور پر موجود تھیں۔ انہوں نے اس تقریب کی تعریف کرتے ہوئے کہا: یہ ایک مثالی اقدام ہے، جسے ہر معاشرے کو اپنانا چاہیے۔ اس طرح کے پروگرام نہ صرف سماجی اتحاد کو فروغ دیتے ہیں بلکہ ضرورت مند خاندانوں کو بھی سہارا فراہم کرتے ہیں۔
رکن اسمبلی نے نئے شادی شدہ جوڑوں کو نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے ان کے خوشحال ازدواجی زندگی کی تمنا کی۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے تمام طبقات کو ایسے اقدامات سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔
اس موقع پر یہ جوڑے نکاح کے
بندھن میں بندھے ،
1. عائشہ صدیقہ - محمد ممتاز
. 2. زیبا انجم - حفیظ خان
3. حمیرا فردوس - شیخ اسرار
4. روزینہ پروین - شاکر احمد
5. مہک انجم - شیخ شہزاد
6. صالحہ آفرین - ارباز احمد
7. مسیرہ تحریم - آغاج انور
8. عفیفہ مہوش - ثاقب احمد
9. تانیہ انجم - عارف احمد
10. بشریٰ پروین - شیخ احمد
11. بشریٰ انم - شیخ ابرار
12. عرشیہ پروین - شیخ اسلم
13. سادیہ صدف - شیخ سلمان
14. شیفا انجم - محمد نیاز
15. آشنا محرین - شیخ زبیر
16. وحیدہ پروین - شیخ نوشاد
17. ثانیہ صدف - عبدالغفران
18. عالیہ صدف - شیخ مشتاق
19. نِخت پروین - اویس خان
20. سِمرن پروین - محمد ریحان
21. مسکان پروین - عبدالرزاق
تقریب میں شریک افراد کا جوش و خروش قابل دید تھا ، ریاست بھر سے آئے ہوئے مہمانوں نے اس اقدام کی بھرپور تعریف کی۔ شرکاء نے اس تقریب کو معاشرتی اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ
دینے والا قدم قرار دیا۔
جمعیتالقرش کے اراکین نے عزم ظاہر کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ نوجوانوں نے بھی تقریب کی کامیابی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
اس تقریب میں شامل ہونے والے جوڑوں نے بھی جمعیتالقرش کی اس کاوش کی ستائش کی۔
ایک نو بیاہتا جوڑے کے خاندان نے کہا کہ"یہ کانفرنس نہ صرف مالی مدد فراہم کرتی ہے بلکہ شادی سے جڑی پیچیدگیوں کو بھی آسان بناتی ہے۔
جمعیتالقرش کے مطابق، اجتماعی شادی کانفرنس کا مقصد صرف نکاح کرانا نہیں ہے بلکہ یہ پیغام دینا بھی ہے کہ سادگی اور آسانی کے ساتھ بھی زندگی کی شروعات کی جا سکتی ہے۔یہ اقدام ان خاندانوں کے لیے ترغیب ہے جو شادی کے اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔
تقریب میں مذہبی و سماجی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں مقامی افراد نے بھی شرکت کی۔ یہ تقریب معاشرے کے ہر طبقے کے لیے ایک متاثر کن مثال بن کر سامنے آئی۔
اجتماعی شادی کانفرنس کی کامیابی میں کردار ادا کرنے والے افراد میں محمد آغاز چودھری، حاجی شبیر، شیخ صادق، عبدالصمد مولانا، حاجی عرفان خان نیشنل، عمران خان، عرفان خان، سبحان پہلوان، انیس پہلوان، فاروق نواب، نبی بھائی، رضا حسین، شہزاد قریشی، سطر پہلوان، احفاج چودھری، بھورو پہلوان، عبد الکریم، عبدالرشید، حاجی کلام، عبدالرشید، عارف سیٹھ، ابرار سیٹھ، حاجی قیصر، اعجاز چودھری، عثمان قریشی، رازیق بھائی بالا پور، جاوید قریشی، وسیم قریشی، ریاض قریشی، عارف قریشی، عمران قریشی کے نام شامل ہیں ان افراد نے اس تقریب کے کامیاب انعقاد کے لیے انتھک محنت کی۔






