آرٹیکل : پیپر لیک ایک المیہ از قلم: شکیل مصطفیٰ، مالیگاؤں 9145139913
Author -
personحاجی شاھد انجم
مئی 17, 2026
0
share
آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں وہ مابعد جدیدیت کا دور ہے۔ جدید و ترقی پذیر کے الفاظ تو ہماری نسل شاید جانتی بھی نہ ہو۔
محنت مشقت، زندگی جینےکا سلیقہ، اپنے مقرر کردہ نشانے کو پانا یہ تمام باتیں اب خواب سی لگنے لگی ہیں۔ ہمارے بزرگوں سے اکثر ہم سنا کرتے ہیں کہ ماضی قریب میں زندگی کے بسر اوقات کا طریقہ و وطیرہ کس طرح کا تھا شاید ہم نے جن الفاظ کا ذکر خیر کیا وہ ان ہی تمام کا احاطہ کرتا ہو لیکن ہم جس گلوبل ایرا میں ہیں وہاں جیسے ان تمام باتوں کا گذر تو ہونا ناممکنات میں سے دکھائی دیتا ہے۔
اس مختصر وقت میں ہم محض اس بات پر اکتفا کرنے پر مجبور ہیں کہ ہم ایک شاندار ماضی کے وارث و امین ہیں لیکن ہم آج کیا ہیں؟ اس پر بات کرنے کے لیے بڑی ہمت و جرأت جٹانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ آج ہم بھلے ہی مادی ترقی کے اعلیٰ درجات پر فائز ہونے کی ڈینگ مار لیں۔
ماڈرن اصطلاحات وضع کریں، پرسنالٹی ڈیولپمنٹ، باڈی لینگویج، سوشل میڈیا اور نہ جانے کتنی خوشنما اصطلاحات وضع کرلیں لیکن انسانی فطرت کی سہل پسندی اس حد تک جاپہنچی ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ خاص طور پر ہمارے ملک ہندوستان جنت نشاں میں ایک بہت بڑی تعداد تعلیم اور جہالت کا کریہہ وقبیع منظر پیش کر رہی ہے۔
وہ دیش جو اقوام مغرب کے لیےسپنوں کی دھرتی کہلاتی تھی۔ جو سانپوں او رسپروں کا مسکن اہلِ مغرب کے تصورات میں تھا۔ ترقی کی چکا چوند نے اِسے اس قدر اندھا کردیا کہ بھلےبُرے کی تمیز ہی کھو بیٹھا۔ بس میں اور میری ترقی اس کا مشن بن کر رھ گئی۔
چاہے کچھ بھی ہو، اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے چاہے کسی کی گردن پر پیر ہی کیوں نہ رکھنا پڑے روا ہے ہر شعبۂ زندگی کا یہی حال ہے۔ معیشت،تجارت، معاشرت، ہر طرف ظلم و بریت کا ننگا ناچ جارہی ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں؟ محض جسمانی ایزا رسانی، مار پیٹ، جان لینا ہی ظلم وستم کے زمرے میں آتا ہے۔
آج ہم جو پیپر لیک کا ماتم کررہے ہیں؟پیپر لیک کیا کوئی تحفۂ سلطانی ہے جس پر ہم چنگ و رباب کی محفلیں آراستہ کریں؟ عزیزانِ گرامی! ہمارے رہنما پڑھنے، پڑھانے کا پُرشگاف نعرہ دیتے ہیں، اسٹیج پر لچھے دار بھاشن دیتے ہیں اور ہمیں اپنی ہمدردی بتاتے ہیں یہ تو محض منظر کی عکاسی ہے۔ ذرا پس منظر ملاحظہ فرمالیں ۔ یہی نیتاجی اپنے چیلے، چپالوں کے ذریعے نظامِ تعلیم میں ایسے ایسے شگوفے لائے ہیں کہ الاماں والحفیظ۔ ہم نے دانستہ یہاں پر نظامِ تعلیم کا ذکر کیا ہے کیوں کہ یہی سے تو سارے فساد کی جڑ شروع ہوتی ہے۔ ہم جب پیپر لیک کی بات کریں گے تو ظاہری بات ہے کہ آغاز تو یہی سے ہوگا۔ اب ہم جس نہج کی گفتگو کریں گے اس میں وہ طلباء او رعوام شامل نہیں ہوں گے جنہوں نے اپنی زندگی گذارنے میں ایمانداری و دیانت داری کو سرِ فہرست رکھا ہے جو معاشرے کے آداب کے مطابق اپنی زندگی کے نظام الاوقات ترتیب دیتے ہیں او رایک کامیاب زندگی بسر کرتے ہیں لیکن ان کی تعداد ایسی ہے کہ آپ انگلیوں پر گن لیں گے۔ ذرا! تصویر کا دوسرا رُخ ملاحظہ فرمالیں۔ پورے ملک میں ایزی منی کا دور دورہ ہوگیا ہے۔ اسکولی نظام بدعنوانی کا ایک جال بن گیا ہے۔ ایک طرف ذہین طلباء اپنے ٹارگٹ کو لے کر رات دن اپنے آپ کو محنت و مشقت کی چکّی میں جھونکے ہوئے ہیں تو دوسری طرف مالدار، متمول والدین کی اولادیں دھن دولت کے بل بوتے پر اساتذہ کے ناک کے بال بنے ہوئے ہیں۔ ماشاءاللہ اُستادِ محترم بھی اپنی ساری محبت، شفقت اور عنایتیں ان ہی کے لیے جملہ حقوق محفوظ کئے رہتے ہیں۔ ایسے زردار طلباء پڑھیں، نہ پڑھیں لیکن نتیجہ دیکھیں تو یہی ممتاز درجات پر فائز نظر آئیں گے یہ ہمارے پیپر لیک کا اولین ثمر ہے۔
اب بتائیے ایک طالب علم کو جب اس طرح سے بعوض نقد کامیابیاں ملتی جائیں تو پھر یہ ایک بنیادی چُوک۔ آگے زندگی کے دیگر مراحل میں کامیابی و کامرانی کے حصول کا موثر ہتھیار کیوں نہ بن جائے گا۔ یادش بخیر! ہم نے دیکھا کہ موجودہ حکومت جب تیسری بار اقتدار پر قابض ہوئی ہی تھی اُس وقت پیپر لیک کا معاملہ کس قدر گرمایا ہوا تھا۔ تقریباً پورے ہندوستان کے ذہین، غریب ایماندار طلباء و طالبات سڑکوں پر اس بے ایمانی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے لیکن کیا ہوا؟ آخر ان کی صدا لعمراہی ثابت ہوئی۔ عزت مآب وزیراعظم نے ایک لفظ بھی ان احتجاجی طلباء کے حق میں کہنا ضروری نہیں سمجھا۔ البتہ لیڈر آف اپوزیشن نے اپنی خطابت کا سارا زور ان کی حمایت میں صَرف کردیا لیکن شاید ان کا حافظہ اس معاملے میں کمزور تھا کہ ان کی اپنی سرکاروں کے دور میں تو اس لعنت کا آغاز ہوا۔
ہم یہاں کسی بھی سیاسی شخص کی حمایت و مخالفت نہیں کر رہے ہیں اور ہمیں اس بات سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے ہم تو صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پیپر لیک ایک سماجی ناسور ہے۔ المیہ اُن کے لیے ہے جو تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں جو ہمت کرتے ہیں وہ دھارے کا رُخ موڑنے کی جرأت و ہمت رکھتے ہیں۔ آج ان کی نہیں سنی جارہی ہے لیکن ایک دن آئے گا جب ایماندار و ذہین طلباء اپنا حق آسانی سے پانے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ گذشتہ کئی برسوں میں بارہویں سی بی ایس ای کے پرچے بھی لیک ہو رہے ہیں جن کی میڈیا تک کو بھنک نہیں لگی اس میں جنوبی ریاست بھی شامل ہے۔ جہاں شرح خواندگی کے صد فی صد ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹاجاتا ہے۔
محترم قارئین! امسال 22؍ لاکھ طلبہ و طالبات نے NEETکا پرچہ دیا اس کا کیا ہوا؟ سب کو اس کا علم ہے پھر۔۔۔ دوبارہ پرچہ ہوگا؟ پیپر لیک سراسر ایک ظلم و نانصافی پر مبنی ایک عفریت ہے جو ہماری نئی نسل اور جوان نسل دونوں کی ذہانت و صلاحیت کو نگلتا جارہا ہے جو نااہل ہیں وہ روپئے کے بل بوتے پر رُتبہ و پوزیشن حاصل کرتےجارہے ہیں۔
ذرا تصور کیجئے کہ اگر اس پیپر لیک کو روکا نہیں گیا تو اس کا انجام کیا ہوگا؟ ملک کی باگ ڈور ایسے نااہل اور جاہل لوگوں کے ہاتھوں میں جائے گی جو اپنے اسکولی تعلیم کے دور سے لے کر اعلیٰ مقابلہ جاتی امتحانات میں بھی محض روپئے کے بل پوتے پر کامیابی حاصل کئے ہوں یعنی جاہل افسر بنے گا اور اس کا چپراسی اس سے زیادہ ذہین فطین ہوگا کیوں کہ اس نے وہ لچھن نہیں اپنائے جو افسری پانے کے لیے ضروری قرار پاتے ہیں۔ اگر بے ایمان ڈاکٹر بن گیا تو مسیحا کم بٹ مار، رہزن اور لٹیرا ہی بنے گا نہ ! پیپر لیک پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے۔ ہم کس حد تک اس پیپر لیک کی خرابیاں بیان کریں۔ القصہ مختصر یہ ضروری ہے کہ اس کے تدارک کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ قانون بناکر پیپر لیک کے خاطی کی تمام جائداد قرق کرلی جائیں، ایک کروڑ جرمانہ بھی عائد کیا جائے۔ پیپر لیک ہر شعبۂ جات کے لیے مضر ہے، پیپر لیک کی بیماری کا جڑتوڑ علاج کیجئے۔ پیپر لیک کا خاتمہ ہی حق دار طلباء کو اپنا حق از خود مل جائے گا۔