بشیر بدر اردو غزل کے اُن ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سادگی، احساس اور انسانی جذبات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ شاعری میں ڈھالا۔ ان کی شاعری دل کی آواز محسوس ہوتی ہے، اسی لیے ان کے اشعار عام لوگوں سے لے کر ادبی حلقوں تک بے حد مقبول ہوئے۔ مشاعروں میں ان کا منفرد اندازِ بیان، پُرسوز آواز اور ٹھہراؤ سامعین کو مسحور کر دیتا تھا۔ ان کے اشعار محبت، جدائی، تنہائی اور انسانی رشتوں کی نزاکت کی بھرپور ترجمانی کرتے ہیں۔ وہ مشکل خیالات کو نہایت آسان اور سادہ الفاظ میں بیان کرنے کا ہنر رکھتے تھے۔ ان کے کئی اشعار آج زبان زدِ عام ہیں اور انسانی احساسات کی بہترین عکاسی کرتے ہیں: "کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملوں گے تپاک سے یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو" "لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں" "کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا" "نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی بڑی آرزو تھی ملاقات کی" "اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے" "گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا" "سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا" "پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا" بشیر بدر کی شاعری میں صرف محبت ہی نہیں بلکہ جدید معاشرے کی بے حسی، انسانی رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور تہذیبی زوال کا شعور بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ہر دور میں تازگی اور معنویت رکھتی ہے۔ زندگی کے آخری دور میں بیماری نے انہیں کمزور ضرور کیا، مگر ان کی شاعری کی روشنی مدھم نہ ہوئی۔ ان کی وفات اردو ادب کا ایک بڑا نقصان ہے، لیکن ان کے اشعار ہمیشہ زندہ رہیں گے اور ادب کے شائقین کے دلوں کو روشن کرتے رہیں گے۔ بشیر بدر نے ثابت کیا کہ بڑے خیالات کے اظہار کے لیے مشکل الفاظ نہیں بلکہ سچے احساسات درکار ہوتے ہیں۔ وہ اردو غزل کا ایسا روشن چراغ ہیں جس کی روشنی دیر تک باقی رہے گی۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے ۔(آمین) شریک غم: عارف محمد خان جلگاؤں