امتحان سے زیادہ میری شناخت اہم ، حجاب پر روکے جانے پر طالبہ کلثوم بانو کا کرارا جواب, احتجاج کے بعد ملی داخلے کی اجازت
Author -
personحاجی شاھد انجم
جون 21, 2026
0
share
فکر و خبر راجستھان کے ضلع اجمیر میں اتوار کے روز نیٹ یو جی 2026 کے دوبارہ انعقاد کے دوران ایک امتحانی مرکز پر اس وقت شدید تنازع کھڑا ہو گیا جب بیاور سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ طالبہ کلثوم بانو کو برقع اور حجاب پہننے کی وجہ سے داخلے سے روک دیا گیا۔ یہ امتحان گزشتہ 3 مئی کو ہونے والے پرچے کے مبینہ آؤٹ ہونے کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی جانب سے دوبارہ منعقد کیا جا رہا تھا۔
طالبہ اپنے والد محمد عالم کے ساتھ امتحانی مرکز پہنچی تھی، جہاں سیکیورٹی عملے نے ان کے مذہبی لباس پر اعتراض کیا۔
امتحانی مرکز پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں نے طالبہ کو ہدایت دی کہ وہ برقع اور حجاب اتار کر اندر داخل ہو کیونکہ ہال کے اندر اس لباس کی اجازت نہیں ہے۔
اس اقدام پر طالبہ کلثوم بانو نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ این ٹی اے کے قوانین کے مطابق امیدواروں کو روایتی اور مذہبی لباس پہننے کی واضح اجازت ہے۔ طالبہ نے بتایا کہ انہوں نے 3 مئی کو ہونے والے اصل امتحان میں بھی یہی برقع اور دوپٹہ پہنا تھا اور اس وقت کسی نے اعتراض نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب این ٹی اے نے اجازت دی ہے تو مقامی عملہ انہیں نہیں روک سکتا۔ طالبہ نے اپنی مذہبی شناخت اور عزتِ نفس پر سمجھوتہ کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں اس لباس میں امتحان دینے کی اجازت نہیں ملتی تو وہ امتحان چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے حکام کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 18 سالہ طالبات کو اس طرح ہراساں کرنا شرمناک ہے اور ان کے لیے امتحان سے زیادہ ان کی شناخت اور برقع اہم ہے۔ طالبہ کے والد محمد عالم نے بھی بیٹی کے موقف کی مکمل تائید کی اور گائیڈ لائنز کی دفعہ 18 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون مذہبی لباس کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے سیکیورٹی عملے سے کسی خاتون اہلکار کے ذریعے تلاشی لینے کی درخواست کی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا۔ اس حساس معاملے کے سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر طول پکڑنے کے بعد اجمیر پولیس نے فوری مداخلت کی۔ سرکل آفیسر شیوم جوشی نے میڈیا کو بتایا کہ قوانین کے حوالے سے پیدا ہونے والی غلط فہمی کو اعلیٰ حکام سے مشاورت کے بعد فوری طور پر دور کر دیا گیا ہے۔ پولیس انتظامیہ کی تصدیق کے مطابق برقع کا مسئلہ پرامن طور پر حل کر لیا گیا اور کلثوم بانو سمیت تمام طلبہ کو احترام کے ساتھ امتحانی مرکز میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔ ملک بھر میں نیٹ کا یہ دوبارہ امتحان انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت دوپہر 2:00 بجے سے شام 5:15 بجے تک منعقد کیا گیا۔ ملک بھر کے امتحانی مراکز پر کسی بھی قسم کی بدعنوانی کو روکنے کے لیے ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے اور 51 ہزار سے زیادہ جیمرز نصب کیے گئے تھے تاکہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو شفاف بنایا جا سکے۔