محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے نوٹس کو منسوخ کریں۔ جمعیتہ علماء مولانا ارشد مدنی ضلع دھولیہ کی جانب سے ضلع کلیکٹر صاحب کو میمورنڈم دیا گیا۔
Author -
personحاجی شاھد انجم
جولائی 28, 2026
0
share
دھولیہ۔ محمد علی جوہر یونیورسٹی (رام پور ، اتر پردیش) کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے نوٹس کو منسوخ کرنے کے سلسلے میں ، معزز صدرِ جمہوریہ ہند اور معزز وزیرِ اعظم ہند کے نام جمعیۃ علماء (مولاناارشد مدنی) دھولیہ کی جانب سے عرضداشت۔
محترم جناب!
اس عرضداشت کے ذریعے ہم، جمعیۃ علماء (مولاناارشد مدنی)، دھولیہ کے صدر و اراکین عہدیداران اور ضلع دھولیہ کے باشعور شہری، اتر پردیش کے شہر رام پور میں واقع معروف تعلیمی ادارہ محمد علی جوہریونیورسٹی سے متعلق ایک نہایت تشویشناک اور سنگین معاملے کی طرف ملک کی اعلیٰ قیادت، معزز صدرِ جمہوریہ اور معزز وزیرِ اعظم کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔
ریاست اتر پردیش کی حکومت نے اس بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹی کی 38 تعلیمی عمارتوں کو منہدم (Imminent Demolition) کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے، جس سے ملک کے تعلیمی شعبے اور بالخصوص اقلیتی برادری میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں ہم آپ کی خدمت میں درج ذیل اہم نکات پیش کرتے ہیں: 1۔ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو خطرہ اس یونیورسٹی میں ہزاروں غریب ، محروم اور اقلیتی طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اگر ان 38 عمارتوں (جن میں کلاس روم ، تجربہ گاہیں اور طلبہ کے ہاسٹل شامل ہیں) کو منہدم کر دیا گیا تو جاری تعلیمی سال مکمل طور پر متاثر ہو جائے گا، ہزاروں طلبہ کا مستقبل تاریک ہو جائے گا، جو کسی بھی جمہوری اور فلاحی ریاست کے شایانِ شان نہیں۔ 2۔ قومی اثاثے کو نقصان تعلیمی ادارے کسی بھی ملک کا قومی سرمایہ ہوتے ہیں۔ انتہائی محنت، کروڑوں روپے کی عوامی سرمایہ کاری اور برسوں کی کاوش سے قائم ہونے والا یہ جدید تعلیمی بنیادی ڈھانچہ (Educational Infrastructure) محض سیاسی انتقام یا معمولی تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر منہدم کرنا ملک کی ترقی کو پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہے۔ 3۔ آئین کی طرف سے دیے گئے حقوق پر ضرب ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 29 اور 30 اقلیتی برادری کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام چلانے کا بنیادی حق دیتے ہیں۔ اس یونیورسٹی کے خلاف یکطرفہ کارروائی آئین کی جانب سے فراہم کردہ ان خصوصی ثقافتی اور تعلیمی حقوق کی براہِ راست خلاف ورزی ہے۔ 4۔ قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی اگر تعمیرات یا زمین سے متعلق کوئی تکنیکی یا انتظامی خامی ہو تو قانون میں جرمانہ یا کمپاؤنڈنگ (Compounding) جیسے متعدد متبادل موجود ہیں۔ ایسی صورت میں براہِ راست بلڈوزر کارروائی (Bulldozer Action) اختیار کرنا قدرتی انصاف (Natural Justice) کے اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ سپریم کورٹ بھی مختلف مواقع پر اس نوعیت کی انہدامی کارروائیوں پر سخت ریمارکس دے چکی ہے۔ ہماری اہم اور فوری مطالبات فوری حکمِ امتناع (Stay Order): اتر پردیش حکومت کی جانب سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے جاری کردہ نوٹس پر مرکزی حکومت اور متعلقہ حکام فوری طور پر حکمِ امتناع جاری کریں۔ اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ تحقیقات: اس پورے معاملے کی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ اگر اس میں سیاسی انتقام کا کوئی پہلو ہو تو وہ بے نقاب ہو سکے۔ تکنیکی خامیوں کی باقاعدہ اصلاح (Regularization): اگر زمین یا تعمیرات سے متعلق کوئی تکنیکی خامی موجود ہو تو یونیورسٹی انتظامیہ کو مناسب وقت دیا جائے تاکہ وہ قانون کے مطابق ان خامیوں کی اصلاح (Regularization) کر سکے۔ تعلیمی حقوق کا تحفظ: اس بات کی ضمانت دی جائے کہ یونیورسٹی کا تعلیمی ماحول متاثر نہ ہو، طلبہ کے دلوں سے خوف و ہراس ختم کیا جائے، اور اس مقصد کے لیے مرکزی حکومت مناسب اور مؤثر اقدامات کرے۔ آخری گزارش ضلع دھولیہ کے عوام اور جمعیۃ علماء (مولاناارشد مدنی)، دھولیہ کی جانب سے ہم آپ سے مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اس تفصیلی (Memorandum) کو نہایت اہم اور حساس معاملہ سمجھتے ہوئے اسے فوری طور پر معزز صدرِ جمہوریہ ہند اور معزز وزیرِ اعظم ہند کے دفتر (PMO) تک پہنچایا جائے اور اتر پردیش حکومت کو اس تباہ کن کارروائی سے روکنے کے لیے مناسب ہدایات جاری کی جائیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے ملک میں آئین و قانون کی بالادستی برقرار رہے گی ، تعلیم کا احترام کیا جائے گا اور انصاف کے تقاضوں کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے گا۔ آپ کے مخلص۔صدر و اراکین جمعیتہ علماء ضلع دھولیہ۔