یہ تیسری لاش تھی ۔ حمید کرائم سین پر طائرانہ نظر ڈال رہا تھا ۔ریلوے ٹریک پر کٹے ہوئے انسانی اعضاء خون سے تر بتر ۔حمید نے اس کے پرس کا جائزہ لیا ۔اعجاز خان -ایک انوسٹ منٹ کمپنی کا مالک ، دو بیویاں تھیں شراب کو ہاتھ بھی نہیں لگا تا تھا۔
" حادثہ دردناک ہے۔ " "ریکھا بولی" یا تو پی رکھی تھی یا پھر خودکشی؟ " جواب میں حمید نے کہا تھا کہ یہ صریحاً قتل ہے کیونکہ لاش اوندھے منہ پڑی ہے یعنی کسی نے پیچھے سے دھکا دیا ہے۔ خود خوشی کرنے والے بریف کیس لے کر نہیں خودکشی کرتا۔ اچانک اس نے غیر ارادی طور پر اپنے عقب میں دیکھا، جہاں انسپکٹر جگدیش بھیڑ کنٹرول کر رہا تھا۔ ایک سرخ اسکرٹ والی لڑکی اچانک کسی کی آڑ میں ہوگئی حمید نے ریکھا سے کہا کہ وہ سرخ اسکرٹ والی کو فالو کرے۔
پندرہ منزلہ عمارت کی ٹیریس پر بیئر پارٹی ہو رہی تھی اچانک ٹیریس سے کوئی زندہ وجود پارکنگ میں گرا اسے چلانے تک کا موقع بھی نہ ملا، خون اور گوشت کے لوتھڑے میں تبدیل ہوگیا، گاڑیوں پر خون کے چھینٹے گرے۔ پارکنگ میں لوگوں کی بھیڑ اکھٹا ہو گئی اتنے میں سائرن بجاتی پولیس گاڑی پارکنگ میں آئی۔ یہ حمید، ریکھا اور جگدیش تھے۔ حمید کرائم سین سے کلیوز اکھٹا کرنے لگا۔ مرنے والے کا نام شہزاد خان تھا۔ اس کی بیوی رخسانہ دیوانہ وار رو رہی تھی۔ وہ دیوار پر چڑھ کر اسٹنٹ کر رہے تھے، توازن بگڑ گیا ہوگا زیادہ پی رکھی تھی۔ " نہیں میم " - حمید بولا " یہ قتل ہے۔ کوئی جوتے پہن کر اسٹنٹ نہیں کرتا۔ ننگے پیر دیوار پر چھڑھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ پھسلن نہیں ہوتی۔ " حمید اس کے پیروں کی طرف دیکھ رہا تھا، وہ ننگے پیروں نہیں تھا۔ کیا آپ پارٹی میں شامل ہونے والوں کی لسٹ دے سکتی ہیں؟ " وہ روئے جارہی تھی اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ حمید نے غیر ارادی طور پر عمارت کی طرف نظریں گھمائیں۔ چوتھی منزل کی بالکنی میں اسے بلیو رنگ کے اسکرٹ کی جھلک نظر آئی۔ حمید ریکھا سے بولا " ریکھا- بلیو اسکرٹ- پچھلی مرتبہ کی طرح ناکام نہ ہونا۔ " لیکن اس بار بھی ناکامی ہی ہاتھ آئی۔ وہ جو تھی وہ چھلاوہ تھی۔ "ہوں" رپوٹنگ سن کر وہ بولا" اچھے جا رہے ہو فرزند۔ میرے سمجھ سے اگلا ٹارگیٹ ایک آرچی ٹیکٹ مسٹر آصف ہو سکتے ہیں۔ اس بار وہ اسکرٹ والی لڑکی کو گرفتار کر ہی چھوڑنا۔ "
" تو آپ اس پر اسرار لڑکی کے بارے میں پوری معلومات رکھتے ہونگے۔ " حمید نے پوچھا۔ " کیس تمہارے پاس ہے کیپٹن صاحب، فریدی مسکرایا" تم ہی ہینڈل کرو۔ میں تو محض کلیئو دے رہا تھا اتنا کہہ سکتا ہوں مرنے والے آپس میں دور قریب کے رشتے دار تھے۔ حمید، ریکھا کو لئے آرچی ٹیکٹ آصف خان کی رہائش گاہ کی طرف چل پڑا۔ لیکن انہیں دیر ہو گئی تھی۔ اس بنگلے کے کمپاؤنڈ میں لوگوں کی بھیڑ کھٹا ہو گئی تھی۔ پارکنگ سے دھوئیں کے مرغولے اٹھ رہے تھے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ایک جھلسی ہوئی لاش پڑی تھی، کار کی چھت دھماکے سے اڑ گئی تھی، لاش کے سر کے چیتھڑے اڑ گئے تھے۔ ریکھا کانپ کر رہ گئی۔ بم اگنیشن سے اٹیچ تھا۔ مقتول نے چابی گھمائی ہی ہوگی کہ بم پھٹ پڑا۔ ریکھا نے بم اسکوارڈ طلب کر لیئے جو نمونہ سمیٹنے میں مشعول ہو گئے۔ حمید نے چاروں طرف نظریں گھمائیں ایک جازب نظر لڑکی پر آکر ٹھہر گئی جینز اور ٹی شرٹ میں وہ غضب ڈھا رہی تھی۔ وہ پنجوں کے بل اچک کر کار میں جھانکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ حمید کلیوز اکھٹا کرنے لگا۔ وہ فریدی کی نقل کر رہا تھا۔ اچانک موبائل پر رنگ ہوئی۔ کال فریدی کی تھی۔ ڈائمنڈ شاپنگ مالز میں کاؤنٹر نمبر 35 کی سیلز گرل مس لاکہ رخ کو چیک کرو، اس سے پہلے کہ وہ آخری ٹارگیٹ تک پہنچے۔ اگلا نمبر ماجد خان کا ہو سکتا ہے۔ وہ گاڑیوں کے شوروم کا مالک ہے لیکن اس سے پہلے آصف خان کی لاش اٹھا کر پوسٹمارٹم کے لئے بھیج دو۔
حمید نے فریدی کی ہدایت کے مطابق ڈائمنڈ شاپنگ مالز کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں انسپکٹر رمیش کا فون آیا کہ ماجد خان ایک کار ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہو گیا۔
جب حمید اور ریکھا جائے حادثے پر پہنچے تو دیکھا کہ ماجد کی گاڑی ایک بھاری ٹرالر سے ٹکرا کر پچک گئی تھی۔ کٹر سے دروازہ کاٹ کر لاش نکالنے پڑی۔ حمید کا جملہ تھا " یہ حادثہ نہیں قتل ہے۔ " حمید نے چاروں طرف نظر دوڑائی مگر کوئی بھی مشبہ وجود نظر نہ آیا۔ ضابطے کی کاروائیوں کے بعد حمید اور ریکھا ڈائمنڈ شاپنگ مالز کی طرف چل پڑے۔ کاونٹر نمبر 35 پر اس کھلتے گلاب کو دیکھ کر حمید چونک پڑا۔ یہ وہی ٹی شرٹ اور جینز والی لڑکی تھی۔ وہ بھی حمید کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رہ گئی اور اپنے کمپیوٹر پر مصروف ہو گئی۔ کاؤنٹر پر پہنچ کر حمید نے ہتھکڑیوں کا جوڑا کاؤنٹر پر رکھ کر بولا۔ " چوڑیاں خود پہننا پسند کرو گی کہ پہنا دو مس لالہ رخ" شاپنگ مالز میں افراتفری مچ گئی۔ ریکھا نے اپنا کارڈ ہوا میں لہرایا۔ " پولیس فرام انٹلی جنٹس" مینیجر ہانپتا ہوا آگیا۔ " معاملہ کیا ہے سر؟ پلیز میں بلڈپریشر کا مریض ہوں" اوکے میں آپ لوگوں کے ساتھ چلتی ہوں۔ ویسے بھی مشن پورا ہو گیا تھا۔
" اسے می ٹو کا معاملہ ہی سمجھ لیں۔ " ریکارڈنگ روم میں لالہ روخ بیان ریکارڈ کروا رہی تھی۔ " ماں کی وفات کے بعد میں گھر میں اکیلی ہوگئ۔ ابھی کم سن تھی۔ ابو آفس چلے جاتے تو انکل کسی نہ کسی بہانے سے گھر آ جاتے۔ میرے ہاتھ میں چاکلیٹ پکڑا دیتے اور باتھ روم میں لے جاتے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ رو پڑی- ریکھا اس کی پیٹھ سہلانے لگی۔ پھر وہ اکثر آنے لگے۔ چاقو دکھاتے اور باتھ روم لے جاتے۔ اور پھر وہی۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر یہی حرکت میرے ماموں بھی کرنے لگے۔ بات بڑھتی گئی ماموں اور انکل کے دوست بھی آنے لگے۔ ابو زیادہ تر بزنس ٹور پر رہتے تھے۔ پھر میں گھر سے بھاگ گئی۔ دوسرے شہر میں بھوکی پیاسی آوارہ گردی کرتی بھیک مانگا کرتی۔ ایک شریف آدمی نے مجھے مہیلا آشرم میں بھرتی کروا دیا۔ وہی تعلیم حاصل کی اور جوان ہوئی۔ انہوں نے ہی جاب پر بھی لگایا۔ وہیں میں نے انتقام کا پلان بنایا۔ اعجاز خان کو میں نے دھکا دے کر ٹرین کے سامنے گرایا۔ وہی کم بخت میرا انکل تھا۔ شہزاد خان کو ٹیریس سے میں نے دھکا دیا وہ ناہنحار میرا ماموں تھا۔ آصف خان کی گاڑی میں میں نے بم پلانٹ کیا تھا۔ قتل کے سارے طریقے میں نے گوگل سے سیکھے تھے۔ اس سے پہلے بھی میں نے انکل کے دوستوں کا قتل کیا تھا۔ ماجد خان کی کار کا بریک میں نے فیل کیا تھا۔ انتقام تو پورا ہوا۔ اب میں ہر انجام بھگتنے کو تیار ہوں۔ کیپٹن صاحب آپ کیا جانیں " می ٹو " کا درد کیا ہوتا ہے"؟ اچانک ریکارڈنگ روم کا دروازہ کھلا اور فریدی ایک دراز تک بوڑھے کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ " یہ ہیں مسٹر انور خان-" فریدی نے کہا" اپنی بیٹی سے ملنے آئے ہیں۔ " بیٹی میں تمہارے لئے وکیلوں کی فوج کھڑی کر دوں گا۔ " بوڑھا بولا، لالہ رخ نے آبدیدہ نظروں سے باپ کی طرف دیکھا " افسوس ڈیڈی! اتنی تاخیر سے اپنی بیٹی کا خیال آیا۔ ڈیڈی آپ نے بہت دیر کردی۔ " فریدی حمید کا کھندہ تھپتھپا رہا تھا۔




