کھام گاؤں نگر پریشد میں مسلم نمائندگی نمایاں، بی جے پی کی تاریخی جیت؛ 7 مسلم کونسلر منتخب
Author -
personحاجی شاھد انجم
دسمبر 29, 2025
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید)کھام گاؤں نگر پریشد کے عام انتخابات کے نتائج کا اعلان حالیہ دنوں میں عمل میں آیا، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے توقعات کے عین مطابق شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے بلدیاتی سیاست میں اپنی مضبوط پکڑ ثابت کر دی۔ 35 رکنی ایوان میں سے 29 نشستوں پر بی جے پی کے امیدواروں کی فتح نے پارٹی کو واضح اکثریت دلا دی۔ ان انتخابات کا ایک اہم اور قابلِ توجہ پہلو مسلم نمائندگی کا نمایاں ہونا رہا۔ کل 35 منتخب اراکینِ بلدیہ میں سے 7 مسلم کونسلر کامیاب ہوئے، جو ایوان کا تقریباً 20 فیصد حصہ بنتے ہیں۔ اس میں خاص بات یہ رہی کہ پہلی مرتبہ بی جے پی کے ٹکٹ پر دو مسلم امیدوار کامیاب ہوئے، جبکہ ایک بی جے پی حمایت یافتہ آزاد امیدوار بھی منتخب ہوا، جو بدلتے ہوئے سیاسی رجحان اور عوامی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ صدرِ بلدیہ کے عہدے پر بی جے پی کی امیدوار اور کامگار منتری آکاش فونڈکر کی بھابھی ارپنا ساگر فونڈکر نے 10 ہزار سے زائد ووٹوں کی بھاری برتری کے ساتھ شاندار کامیابی حاصل کر کے ترقی اور کارکردگی کے ایجنڈے پر عوامی مہر ثبت کر دی۔ منتخب مسلم امیدواروں میں بی جے پی سے پربھاگ 17 میں نور صبا انجم عبدالرشید اور فاطمہ بی محمد نعیم شامل ہیں، جبکہ بی جے پی حمایت یافتہ آزاد امیدوار حجن نسیم بانو الحاج عبدلکریم نے (پربھاگ نمبر 2 ) بھی کامیابی حاصل کی۔ کانگریس کی جانب سے پربھاگ نمبر 2 سے محمد عیسیٰ محمد موسیٰ اور پربھاگ نمبر 17 سے حافظ عظیم محمد پٹیل منتخب ہوئے، جبکہ راشٹروادی کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) سے پربھاگ نمبر 12 میں تحسین شاہ قاسم شاہ اور فوزیہ شیخ عابد قریشی کامیاب قرار پائے۔ دلچسپ امر یہ بھی رہا کہ بی جے پی اور اسکے حمایت یافتہ تین مسلم امیدوار نہایت معمولی ووٹوں کے فرق سے شکست سے دوچار ہوئے۔ پربھاگ نمبر 2 سے گل زماں شاہ صرف 8 ووٹوں سے، پربھاگ 17 سے شیخ مفیس شیخ اسلم 7 ووٹوں سے، جبکہ پربھاگ 12 سے ذکیہ بانو انیس جمعدار 80 ووٹوں سے ہار گئیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی کی مقبولیت اقلیتی حلقوں میں بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ واضح رہے کہ ان انتخابات میں بی جے پی نے ترقیاتی کاموں، بنیادی سہولتوں اور مضبوط بلدیاتی نظم و نسق کو اپنی مہم کا مرکز بنایا، جس کے نتیجے میں پارٹی نے شہر بھر میں 7 سے 8 ہزار ووٹوں کی سبقت حاصل کر کے دیگر جماعتوں کو واضح پیغام دے دیا۔ کھام گاؤں کے عوام نے اپنے فیصلے سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شہر کی سیاست اب ترقی، کارکردگی اور وسیع نمائندگی کی سمت گامزن ہو چکی ہے۔