ووٹر لسٹ میپنگ میں نام کے بجائے EPIC نمبر کو بنیادی بنیاد بنایا جائے ریاستی الیکشن کمیشن سے جمعیۃ علماء کے رکن عطااللہ خان پٹھان کا مطالبہ
Author -
personحاجی شاھد انجم
جولائی 03, 2026
0
share
کھام گاؤں (واثق نوید) ووٹر لسٹ میپنگ کے عمل کے دوران متعدد شہریوں کے نام سن 2002 کی ووٹر لسٹ سے مطابقت نہ رکھنے (Mismatch) کی وجہ سے مختلف مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
اس پس منظر میں تعلقہ سنگرام پور کے گاؤں ٹونکی بُ. کے رہائشی، ریٹائرڈ استاد اور ضلع بلڈھانہ جمعیۃ علماء کے رکن عطااللہ خان رفیق خان پٹھان نے ریاستی الیکشن کمیشن کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نام کے بجائے ووٹر شناختی کارڈ نمبر (EPIC Number) کو میپنگ کا بنیادی معیار بنایا جائے۔
یادداشت میں کہا گیا ہے کہ سن 2002 کی ووٹر فہرستوں میں متعدد ووٹروں کے نام، خاندانی نام اور دیگر تفصیلات میں ہجے اور معلومات سے متعلق غلطیاں موجود تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے شہریوں نے قانونی طریقۂ کار مکمل کرکے ان غلطیوں کی اصلاح کروا لی ہے۔
لیکن موجودہ میپنگ کے عمل میں پرانے اور نئے ناموں کا تقابل کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے جائز ووٹروں کا ریکارڈ "مس میچ" کے طور پر ظاہر ہو رہا ہے۔ پٹھان نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر نام کے بجائے ووٹر کے EPIC نمبر کی بنیاد پر تصدیق اور میپنگ کی جائے تو یہ عمل زیادہ درست، شفاف اور تیز رفتار ہو سکتا ہے۔ اس سے نام میں کی گئی تبدیلی یا اصلاح کے باعث پیدا ہونے والے ابہام سے بچا جا سکے گا اور اہل ووٹروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اگرچہ نام میں اصلاح کے بعد ووٹر کے نئے شناختی کارڈ کا نمبر الگ نظر آتا ہے، لیکن درحقیقت الیکشن کمیشن کے نظام میں ووٹر شناختی کارڈ میں اصلاح کے وقت نئے کارڈ اور ڈیٹا بیس میں موجود پرانے کارڈ کا حوالہ اور اس کا نمبر ایک دوسرے سے منسلک کیا جاتا ہے۔ پٹھان نے ریاستی الیکشن کمیشن سے اپیل کی ہے کہ نام میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے ابہام کو دور کرنے اور ڈیٹا میپنگ کو سو فیصد درست بنانے کے لیے سافٹ ویئر اور تصدیقی عمل میں "EPIC نمبر میپنگ" کے اختیار کو ترجیح دی جائے۔ اس سے ملازمین کا وقت بچے گا اور شہریوں کو ہونے والی غیر ضروری پریشانی سے بھی نجات ملے گی۔ انہوں نے اس تکنیکی تجویز پر مثبت غور کرتے ہوئے ضروری ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔